شمالی بھارت
ٹرینڈنگ

400  سال پرانی تاریخی توپ کی چوری میں اہم پیشرفت،3.5 ٹن وزنی توپ اب بھی لاپتا

ابتدائی تحقیقات کے مطابق گزشتہ ہفتے چند افراد گاڑی کے ذریعے نرور قلعے کے پچھلے حصے میں پہنچے اور وہاں نصب تاریخی توپ کو اٹھا کر فرار ہو گئے۔ بعد ازاں پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی مدد سے تحقیقات کا دائرہ راجستھان کے ضلع کروَلی تک وسیع کیا۔

کروَلی؍شیوپوری: مدھیہ پردیش کے ضلع شیوپوری میں واقع تاریخی نرور قلعہ سے تقریباً 400 سال پرانی اور 3.5 ٹن وزنی تاریخی توپ کی چوری کے سنسنی خیز معاملے میں پولیس کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ پولیس نے راجستھان کے ضلع کروَلی سے تعلق رکھنے والے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، تاہم چوری شدہ توپ اب تک برآمد نہیں ہو سکی۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت ٹمّو مینا اور امن مینا کے طور پر ہوئی ہے، جو راجستھان کے ضلع کروَلی کے ہنڈون صدر تھانہ علاقے کے رہائشی ہیں۔ واردات میں استعمال ہونے والی مہندرا بولیرو پک اَپ گاڑی بھی ضبط کر لی گئی ہے، جس کے ذریعے مبینہ طور پر توپ کو قلعے سے لے جایا گیا تھا۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق گزشتہ ہفتے چند افراد گاڑی کے ذریعے نرور قلعے کے پچھلے حصے میں پہنچے اور وہاں نصب تاریخی توپ کو اٹھا کر فرار ہو گئے۔ بعد ازاں پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی مدد سے تحقیقات کا دائرہ راجستھان کے ضلع کروَلی تک وسیع کیا۔

پولیس کو ایسے شواہد بھی ملے ہیں جن میں مبینہ طور پر چوری شدہ توپ کو ایک پک اَپ گاڑی میں لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تصاویر اور ویڈیوز ٹول پلازہ کے سی سی ٹی وی کیمروں میں ریکارڈ ہوئیں، جن کی بنیاد پر پولیس دیگر ملزمان کی تلاش میں مصروف ہے۔

دوسری جانب مدھیہ پردیش اور راجستھان پولیس نے مشترکہ طور پر کروَلی کے ایک مینا اکثریتی گاؤں میں سرچ آپریشن بھی چلایا۔ شبہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ ملزمان نے توپ کو زمین میں دفن کر دیا ہے، جس کے پیش نظر متعدد مقامات پر جے سی بی مشینوں کے ذریعے کھدائی کی گئی۔

تلاشی کارروائی میں مدد کے لیے بھرت پور سے زیرِ زمین دھات کا پتہ لگانے والے خصوصی آلات سے لیس ٹیم بھی طلب کی گئی، تاہم اب تک تاریخی توپ کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے میں ملوث دیگر افراد کی تلاش جاری ہے اور امید ہے کہ جلد ہی 400 سال پرانی اس قیمتی تاریخی توپ کو بھی برآمد کر لیا جائے گا۔