یوپی میں سماج وادی پارٹی سے اتحاد کیلئے اسد اویسی کی پیشکش، ایس پی نے کہا فیصلہ آسان نہیں
اتر پردیش کے شہر مرادآباد میں ہفتہ کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم سماجوادی پارٹی کے ساتھ اتحاد کے لیے تیار ہے اور اس موضوع پر بات چیت شروع کرنے کا یہی مناسب وقت ہے۔
لکھنؤ: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے ایک بار پھر اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی (SP) کے ساتھ انتخابی اتحاد کی خواہش ظاہر کی ہے، تاہم سماجوادی پارٹی کے قائدین نے اسے ایک مشکل فیصلہ قرار دیا ہے۔
اتر پردیش کے شہر مرادآباد میں ہفتہ کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم سماجوادی پارٹی کے ساتھ اتحاد کے لیے تیار ہے اور اس موضوع پر بات چیت شروع کرنے کا یہی مناسب وقت ہے۔
اویسی نے کہا کہ ان کی جماعت کی جدوجہد کسی مذہب کے خلاف نہیں بلکہ انصاف اور اپنے حقوق کے لیے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کے بعد افسوس کرنے کے بجائے پہلے ہی اتحاد کر لینا بہتر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ان کا بنیادی مقصد بی جے پی کو دوبارہ اتر پردیش میں اقتدار میں آنے سے روکنا ہے، اور اس مقصد کے لیے وہ سماجوادی پارٹی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔
یہ گزشتہ دس دنوں کے دوران دوسرا موقع ہے جب اویسی نے سماجوادی پارٹی کے ساتھ اتحاد کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ اس سے قبل بھی وہ یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی جماعت سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی (BSP) دونوں کے ساتھ مل کر انتخابات لڑنے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب سماجوادی پارٹی کی جانب سے اس تجویز پر محتاط ردعمل سامنے آیا ہے۔ پارٹی سربراہ اکھلیش یادو نے اشارہ دیا ہے کہ اے آئی ایم آئی ایم کے ساتھ اتحاد اتنا آسان نہیں ہوگا۔
سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ محب اللہ ندوی نے بھی کہا کہ اس ممکنہ اتحاد میں کئی پیچیدگیاں موجود ہیں، تاہم حتمی فیصلہ پارٹی صدر اکھلیش یادو ہی کریں گے۔
واضح رہے کہ اتر پردیش اسمبلی انتخابات اگلے سال متوقع ہیں، جس کے پیش نظر مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنی انتخابی حکمت عملی تیار کرنا شروع کر دی ہے، جبکہ بی جے پی کا مقابلہ کرنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اتحاد کے امکانات پر بھی سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔