ایشیاء

ضرورت پڑنے پر سوشل میڈیا پر پابندی لگائی جاسکتی ہے: خواجہ آصف

خواجہ آصف نے کہا کہ ان رکاوٹوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے فوج کے ذریعے ’فوری ردعمل‘کی تعریف کی، لیکن کہا کہ شہری افسران حکام کو کئی چیلنجوں اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔

اسلام آباد: پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ گزشتہ نو مئی کو ہوئے تشدد کے بیج سوشل میڈیا نے بوئے تھے، ضرورت پڑنے پر سوشل میڈیا نیٹ ورکس کو مزید روکا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں
کیرالا میں زائد از 20 ہزار افراد آن لائن دھوکہ دہی کا شکار۔ 201 کروڑ روپئے سے زیادہ رقم سے محروم
مریم نواز، پاکستان کے صوبہ پنجاب کی پہلی خاتون چیف منسٹر ہوں گی
مجلسی خاتون لیڈر کی 2 افراد کے خلاف شکایت
ہلدوانی تشدد کی مجسٹرئیل تحقیقات کا حکم۔ 6 کروڑ کا نقصان
عمران خان کے پارٹی قائدین کے خلاف تازہ فوجی کارروائی

مسٹر آصف نے منگل کو ’جیو نیوز‘کو بتایا تھا کہ امریکہ، برطانیہ اور چین جیسے ممالک سبھی سوشل نیٹ ورکس کو کنٹرول کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ”قواعد و ضوابط ایک فریم ورک ہے، اس کی نگرانی کی جاتی ہے۔

ہمارے ملک میں سوشل میڈیا کا استعمال لوگوں کو ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ گزشتہ نو مئی کے تشددکی اسکرپٹ سوشل میڈیا کے ذریعے تیار کی گئی تھی۔“

غورطلب ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان کی گرفتاری کے بعدبھڑکے فسادات کو روکنے کے لیے حکومت نے ملک بھر میں انٹرنیٹ کا استعمال بند کر دیا تھا اور سوشل میڈیا نیٹ ورکس کو کئی دنوں کے لئے بلاک کر دیا تھا۔

 نو مئی کو سامنے آئی تشدد کے مجرموں کے خلاف کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر آصف نے کہا کہ فوج کے ذریعے سے اپنے اہلکاروں اور ان کے خاندان کے افرادکے خلاف کی گئی کارروائی کے اعلان کے بعد حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ فسادات کے مجرموں کی جواب دہی طے کرے۔

انہوں نے کہا کہ ان رکاوٹوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے فوج کے ذریعے ’فوری ردعمل‘کی تعریف کی، لیکن کہا کہ شہری افسران حکام کو کئی چیلنجوں اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ’ملٹری ایکٹ کے تحت شہریوں پر مقدمہ چلانے کے قانون کو مختلف عدالتوں میں چیلنج کیا گیا ہے، سپریم کورٹ بھی دلیلیں سن رہی ہے۔“