آندھرا پردیش کے جنگلات میں شیر کی مشتبہ موت، ڈپٹی سی ایم پون کلیان نے تحقیقات کا حکم دے دیا
محکمہ جنگلات کے حکام کو جائے وقوعہ کا تفصیلی معائنہ کرنے اور تحقیقات کے لیے تمام ضروری شواہد جمع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکام یہ بھی جانچ کریں گے کہ شیر کے جسم پر کسی قسم کے زخم، زہر خورانی یا دیگر ایسے شواہد تو موجود نہیں جو انسانی مداخلت کی جانب اشارہ کرتے ہوں۔
مارکاپورم: آندھرا پردیش کے مارکاپورم ضلع کے گدالورو ڈویژن کے راچَرلا بیٹ علاقے میں ایک شیر کی مشتبہ موت کے معاملے پر ڈپٹی چیف منسٹر اور وزیرِ جنگلات پون کلیان نے تفصیلی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
پون کلیان نے محکمہ جنگلات کے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ شیر کی موت کے حالات کا مکمل جائزہ لیا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ موت قدرتی وجوہات سے ہوئی یا اس میں شکاریوں یا کسی غیر قانونی سرگرمی کا ہاتھ ہے۔
ڈپٹی چیف منسٹر نے جنگلی حیات کے قوانین کے مطابق شیر کا پوسٹ مارٹم کرانے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے علاوہ موت کی اصل وجہ معلوم کرنے کے لیے ضروری فرانزک ٹیسٹ بھی کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔
محکمہ جنگلات کے حکام کو جائے وقوعہ کا تفصیلی معائنہ کرنے اور تحقیقات کے لیے تمام ضروری شواہد جمع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکام یہ بھی جانچ کریں گے کہ شیر کے جسم پر کسی قسم کے زخم، زہر خورانی یا دیگر ایسے شواہد تو موجود نہیں جو انسانی مداخلت کی جانب اشارہ کرتے ہوں۔
پون کلیان نے جنگلی حیات کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے حکام کو ہدایت دی کہ معاملے کی شفاف اور جامع تحقیقات کی جائیں تاکہ شیر کی موت کی اصل وجہ سامنے آسکے۔
پوسٹ مارٹم، فرانزک جانچ اور فیلڈ انویسٹی گیشن کی رپورٹس کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔ اگر تحقیقات میں غیر قانونی شکار یا کسی دوسری غیر قانونی سرگرمی کے شواہد ملے تو ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔