ٹرمپ نے ایران پر مجوزہ حملہ روکا، سعودی ولی عہد کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل
اسرائیل بھی اس عزم میں میرے ساتھ ہے۔" اس سے پہلے، ہفتے کو مسٹر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے فون پر بات چیت کی تھی۔ معلومات رکھنے والے ذرائع کے حوالے سے 'ایکسیوس' نے بتایا کہ سعودی لیڈر نے ایران پر بڑے حملے کرنے کی امریکہ کی اسکیموں پر تشویش کا اظہار کیا۔
ماسکو: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے مدنظر انہوں نے ایران پر کیے جانے والے حملے کو منسوخ کر دیا ہے۔
مسٹر ٹرمپ نے ‘ٹروتھ سوشل’ پر کہا کہ "دنیا کے مستقبل کے فائدے اور ایک کامیاب و خوشحال ایران کے لیے، میں نے حملہ منسوخ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے بشرطیکہ جلد ہی کوئی معاہدہ ہو سکے۔
اسرائیل بھی اس عزم میں میرے ساتھ ہے۔” اس سے پہلے، ہفتے کو مسٹر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے فون پر بات چیت کی تھی۔ معلومات رکھنے والے ذرائع کے حوالے سے ‘ایکسیوس’ نے بتایا کہ سعودی لیڈر نے ایران پر بڑے حملے کرنے کی امریکہ کی اسکیموں پر تشویش کا اظہار کیا۔
ایک اور ذریعہ نے ایکسیوس کو بتایا کہ ولی عہد نے مسٹر ٹرمپ سے تناؤ کم کرنے اور ایران پر حملے سے بچنے کی اپیل کی تھی اور ایک اور اطللاع کے مطابق، آبنائے ہرمز کو پھر سے کھولنے پر رضامندی قائم کرنے کی کوشش میں قطر کے نمائندوں نے ہفتے کو ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی، امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور عمان کے نمائندوں کے ساتھ الگ الگ بات چیت کی۔
خبروں کے مطابق، دونوں فریقین کے درمیان کچھ پیش رفت ہوئی ہے تاہم یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ کیا اس سے تناؤ کم کرنے میں مدد ملے گی۔
پریس ٹی وی نے پہلے خبر دی تھی کہ مسٹر عراقچی نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان ال سعود سے فون پر بات کی تھی اور مغربی ایشیا کے ملکوں کو خبردار کیا تھا کہ اگر وہ ایران کے خلاف امریکی حملوں میں مدد کرتے ہیں، تو اس کے لیے وہ ذمہ دار ہوں گے۔
سی بی ایس نے پہلے ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے توانائی کے ڈھانچے پر بڑے پیمانے پر حملے کی تیاری کر رہے ہیں، جو اسی ہفتے ہو سکتا ہے۔
آٹھ جولائی کو ٹرمپ نے اعلان کیا کہ 18 جون کی رات ایران کے ساتھ ہوا جنگ بندی کا معاہدہ اب نافذ نہیں ہے۔ آٹھ جولائی کے بعد سے، امریکی فوج نے ایران پر کئی حملے کیے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے خلاف تہران کے حملوں کے جواب میں کی گئی تھی۔ ایرانی فوج نے کئی مشرق وسطیٰ کے ملکوں میں امریکی ٹھکانوں پر حملے کر کے جواب دیا۔ تہران نے واشنگٹن پر لڑائی روکنے کے معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کا الزام بھی لگایا۔