تلنگانہ

تلنگانہ حکومت نے معذور افراد کے مراکز کے لیے ای-آٹوز لانچ کیے، جامع فلاحی عزم کا اعادہ

سیتھکا نے بتایا کہ ایس ای آر پی نے ریاست بھر میں معذور افراد کے 13,000 سے زائد سیلف ہیلپ گروپس قائم کیے ہیں، جن میں 82,000 سے زیادہ اراکین شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹری نِدھی کے ذریعے 38.16 کروڑ روپے اور خواتین گروپس کے ذریعے 4.13 کروڑ روپے کے قرضے، نیز 2,248 مستفیدین کو روزگار کی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں، جو حکومت کے فلاحی عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔

حیدرآباد: تلنگانہ کی پنچایت راج، دیہی ترقی اور خواتین و اطفال کی فلاح و بہبود کی وزیر سیتھکا (ڈاکٹر داناساری انسویا) نے ہفتہ کو معذور افراد کے 14 محلہ مراکز کے لیے ای-آٹوز لانچ کیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت معذور افراد کو ہمدردی نہیں بلکہ مساوی مواقع اور عزت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔


یہ اقدام جیوتی راؤ پھولے پراجا بھون میں ہیلن کیلر کی یومِ پیدائش کے موقع پر شروع کیا گیا۔ وزیر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اے۔ ریونت ریڈی کی قیادت میں کانگریس حکومت تعلیم، روزگار، بحالی اور روزی روٹی کے شعبوں میں معذور افراد کے لیے مواقع بڑھا رہی ہے۔


انہوں نے کہا کہ ای-آٹوز بچوں کو ان کے گھروں سے محلہ مراکز تک مفت ٹرانسپورٹ فراہم کریں گے، تاکہ انہیں فزیوتھراپی، اسپیچ تھراپی، خصوصی تعلیم اور مشاورت تک باقاعدہ رسائی حاصل ہو سکے۔


سیتھکا نے بتایا کہ ایس ای آر پی نے ریاست بھر میں معذور افراد کے 13,000 سے زائد سیلف ہیلپ گروپس قائم کیے ہیں، جن میں 82,000 سے زیادہ اراکین شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹری نِدھی کے ذریعے 38.16 کروڑ روپے اور خواتین گروپس کے ذریعے 4.13 کروڑ روپے کے قرضے، نیز 2,248 مستفیدین کو روزگار کی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں، جو حکومت کے فلاحی عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔


وزیر نے کہا کہ ریاست کے 26 اضلاع میں 74 محلہ مراکز اس وقت تقریباً 3,000 معذور بچوں کو بحالی کی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے انڈین آئل کارپوریشن کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے سی ایس آر فنڈز کے ذریعے ای-آٹو منصوبے کی حمایت کی اور اعلان کیا کہ حکومت محلہ مراکز کو مزید مضبوط اور وسیع کرے گی تاکہ خدمات ہر مستحق تک پہنچ سکیں۔


تقریب میں معذور بچوں کی کئی ماؤں نے جذباتی تاثرات پیش کیے اور کہا کہ محلہ مراکز میں باقاعدہ تھراپی نے ان کے بچوں کی زندگی بدل دی ہے، جس سے نقل و حرکت، بات چیت اور اعتماد میں بہتری آئی ہے اور ان کے خاندانوں کو مستقبل کے لیے نئی امید ملی ہے۔