آٹو رکشا کرایوں میں اضافہ، تلنگانہ حکومت نے کیا اعلان
رات 11 بجے سے صبح 5 بجے تک مسافروں سے معمول کے کرائے کا ڈیڑھ گنا وصول کیا جائے گا۔
حیدرآباد : تلنگانہ حکومت نے 12 سال بعد آٹو رکشا کے کرایوں میں نظرثانی کرتے ہوئے اس شعبے کو آر ٹی سی اور میٹرو خدمات کے ساتھ عوامی نقل و حمل کے نظام کا ایک اہم حصہ قرار دیا ہے۔
نظرثانی شدہ کرایے سابقہ غیر منقسم آندھرا پردیش حکومت کی جانب سے 14 فروری 2014 کو جاری کیے گئے جی او ایم ایس نمبر 20 کے تحت مقرر کرایوں کی جگہ نافذ ہوں گے۔
نئے کرایہ ڈھانچے کے مطابق پہلے 1.6 کلومیٹر کے لیے کم از کم کرایہ 30 روپے ہوگا، جبکہ اس کے بعد ہر اضافی کلومیٹر کے لیے 14 روپے وصول کیے جائیں گے۔ انتظار کا چارج 0.75 روپے فی منٹ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ قابل قبول سامان کے لیے 0.50 روپے چارج ہوگا اور سامان کی زیادہ سے زیادہ حد 100 کلوگرام مقرر کی گئی ہے۔ رات 11 بجے سے صبح 5 بجے تک مسافروں سے معمول کے کرائے کا ڈیڑھ گنا وصول کیا جائے گا۔
حکومت نے کہا کہ کرایوں میں نظرثانی کا مقصد آٹو ڈرائیوروں کے روزگار اور بڑھتے ہوئے آپریٹنگ اخراجات کے ساتھ مسافروں کے مفادات میں توازن قائم کرنا ہے، تاکہ عوام کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر نے کہا کہ آٹو ڈرائیور عوامی نقل و حمل کے نظام کے اہم فریق ہیں اور حکومت ان کے روزگار اور فلاح و بہبود سے متعلق مسائل پر توجہ دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹو کارکنوں کے لیے فلاحی بورڈ کے قیام کا عمل شروع کیا جائے گا اور اس بات پر زور دیا کہ آر ٹی سی ملازمین کی طرح آٹو ڈرائیوروں کی فلاح و بہبود کو بھی ترجیح دی جائے گی۔