حیدرآباد

تلنگانہ حکومت کا بڑا فیصلہ، راشن کارڈ ہولڈرز کو می سیوا کے ذریعہ فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹ ہوگا جاری

حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد شہریوں کو مستند خاندانی ریکارڈ آسانی سے فراہم کرنا، سرکاری خدمات کے حصول کے لیے کاغذی کارروائی کم کرنا اور مختلف محکموں میں خاندان کی معلومات کی یکساں تصدیق کو یقینی بنانا ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے راشن کارڈ (فوڈ سیکیورٹی کارڈ) رکھنے والے خاندانوں کے لیے "تلنگانہ فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹ” جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ ریونیو نے 25 جولائی 2026 کو جی او ایم ایس نمبر 172 جاری کرتے ہوئے ریاست بھر میں ایک الیکٹرانک فیملی رجسٹر قائم کرنے کے احکامات دیے ہیں۔

حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد شہریوں کو مستند خاندانی ریکارڈ آسانی سے فراہم کرنا، سرکاری خدمات کے حصول کے لیے کاغذی کارروائی کم کرنا اور مختلف محکموں میں خاندان کی معلومات کی یکساں تصدیق کو یقینی بنانا ہے۔

جی او کے مطابق فیملی رجسٹر مکمل طور پر ڈیجیٹل ہوگا اور اسے فوڈ سیکیورٹی کارڈ (راشن کارڈ) کے ڈیٹا بیس سے منسلک کیا جائے گا۔ فیملی رجسٹر کا شناختی نمبر وہی ہوگا جو راشن کارڈ نمبر ہے۔ اس میں خاندان کے سربراہ کا نام، تمام افرادِ خاندان کے نام، سربراہ سے ان کا تعلق، عمر، تاریخ پیدائش، جنس، آدھار نمبر اور مکمل رہائشی پتہ درج ہوگا۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ سرٹیفکیٹ صرف خاندان کی معلومات پر مبنی ایک سرکاری ریکارڈ ہوگا۔ اسے جائیداد کی ملکیت، قانونی وراثت یا کسی بھی دوسرے قانونی حق کا ثبوت نہیں سمجھا جائے گا، اور نہ ہی صرف اس سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر کسی شخص کو سرکاری فلاحی اسکیموں کا اہل قرار دیا جائے گا۔

شہری می سیوا مراکز، می سیوا آن لائن پورٹل یا موبائل ایپ کے ذریعے 62 روپے سروس چارج ادا کرکے فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دے سکیں گے۔ خاندان کا کوئی بھی بالغ فرد درخواست دے سکتا ہے، جبکہ متعلقہ تحصیلدار راشن کارڈ کے ڈیٹا بیس سے معلومات کی تصدیق کے بعد دو ورکنگ دنوں کے اندر ڈیجیٹل دستخط شدہ سرٹیفکیٹ جاری کریں گے۔

دریں اثنا، اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فہیم قریشی کے ساتھ مل کر حکومت کو اس سلسلے میں نمائندگی کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے دوران قابل قبول 12 دستاویزات میں شامل ہے، جس سے خاص طور پر غریب اور ایسے افراد کو فائدہ ہوگا جن کے پاس دیگر ضروری دستاویزات موجود نہیں ہیں۔

اویسی نے امید ظاہر کی کہ عوام اس نئی سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے اور بروقت فیصلہ کرنے پر تلنگانہ حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے شہریوں کو سرکاری خدمات کی فراہمی مزید آسان، شفاف اور تیز ہوگی۔