ہندوستانی دفاعی نظام سے متعلق مبینہ ڈیٹا لیک پر ہلچل
مبینہ طور پر اس دفاعی نوعیت کے ڈیٹا کے عوض فروخت کنندہ 8,000 امریکی ڈالر کا مطالبہ کر رہا ہے۔
ترواننت پورم : ایک سماج دشمن عنصر مبینہ طور پر دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم (ڈی آر ڈی او) اور ہندوستانی فوج سے متعلق 31 جی بی ڈیٹا فروخت کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے باعث دفاعی معلومات کے ممکنہ افشا ہونے پر تشویش بڑھ گئی ہے۔
ایلابائی گلوبل تھریٹ انٹیلی جنس گروپ کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ ڈیٹا گزشتہ دو ہفتوں سے فروخت کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ مبینہ طور پر اس دفاعی نوعیت کے ڈیٹا کے عوض فروخت کنندہ 8,000 امریکی ڈالر کا مطالبہ کر رہا ہے۔
ثبوت کے طور پر جاری کیے گئے نمونہ دستاویزات میں مبینہ طور پر حساس اور محدود تکنیکی معلومات شامل ہیں۔ بعض دستاویزات پر سینئر سائنس دانوں کی منظوری یا دستخط بھی موجود ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس سے فروخت کے لیے پیش کیے گئے مواد کی نوعیت اور حساسیت کے بارے میں خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
تاہم فروخت کنندہ کے دعووں اور پیش کیے گئے دستاویزات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان نمونہ دستاویزات کی تفصیلی تکنیکی اور فارنزک جانچ ضروری ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ حقیقی ہیں، آیا ان کا تعلق واقعی ڈی آر ڈی او یا دیگر دفاعی اداروں سے ہے، اور آیا یہ معلومات کسی غیر مجاز سائبر دراندازی کے ذریعے حاصل کی گئی ہیں یا نہیں۔
انجینئرنگ فزکس کے ماہر اور صنعتی سائبر سکیورٹی کے ماہر کے ایس منوج نے پیر کے روز کہا کہ اگر یہ دستاویزات اصلی ثابت ہوتی ہیں تو اس معاملے میں معلوماتی سلامتی اور دستاویزات کے تحفظ سے متعلق ضابطوں پر عمل درآمد کی مکمل جانچ ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق فی الحال یہ تمام دعوے غیر مصدقہ ہیں اور متعلقہ حکام کی آزادانہ تکنیکی تحقیقات کے بغیر انہیں ڈیٹا لیک کا حتمی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔
اب تک مبینہ ڈیٹا کی صداقت، فروخت کنندہ کی شناخت یا کسی ممکنہ ڈیٹا لیک کے بارے میں کوئی سرکاری وضاحت یا باضابطہ تصدیق جاری نہیں کی گئی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ڈی آر ڈی او کی سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیسی تھامس سمیت متعلقہ حکام کی توجہ اس معاملے کی جانب مبذول کرانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ اطلاعات ہیں کہ بعض دستاویزات میں مبینہ طور پر حساس تکنیکی معلومات موجود ہیں، خصوصاً وہ دستاویزات جن پر سینئر سائنس دانوں کی منظوری یا دستخط جیسے نشانات دکھائی دیتے ہیں، جس کے باعث حساس دفاعی معلومات کے افشا ہونے کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں