صحافیوں کے ایکریڈیشن کارڈس کا معاملہ،جواب داخل کرنے تلنگانہ ہائی کورٹ کی حکومت کو ہدایت
تلنگانہ ہائی کورٹ نے صحافیوں کے ایکریڈیٹیشن کارڈس کی معیاد ختم ہونے کے معاملہ پر ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کی ہے۔ موجودہ ایکریڈیٹیشن کارڈس کی میعاد 28 فروری کو ختم ہونے والی ہے جس کے پیش نظر عدالت نے معاملہ کی اہمیت کے ساتھ سماعت کی۔
حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے صحافیوں کے ایکریڈیٹیشن کارڈس کی معیاد ختم ہونے کے معاملہ پر ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کی ہے۔ موجودہ ایکریڈیٹیشن کارڈس کی میعاد 28 فروری کو ختم ہونے والی ہے جس کے پیش نظر عدالت نے معاملہ کی اہمیت کے ساتھ سماعت کی۔
چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین پر مشتمل بنچ نے تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔ درخواست میں ایکریڈیٹیشن کارڈس کی متوقع معیاد ختم ہونے پر تشویش ظاہر کی گئی اور تلنگانہ میڈیا ایکریڈیٹیشن رولس 2025 کے تحت جاری جی او ایم ایس نمبر 252 اور بعد کی ترامیم کو چیلنج کیا گیا۔
سماعت کے دوران عدالت نے اس بات کا نوٹ لیا کہ متعلقہ حکام نے سابقہ ہدایات پر عمل درآمد نہیں کیا۔ بنچ نے سرکاری وکیل کو ہدایت دی کہ وہ 26 فروری تک جوابی حلف نامہ داخل کریں۔ عدالت نے دیگر فریقین کو بھی آئندہ تاریخ سماعت سے قبل اپنا جواب داخل کرنے کا حکم دیا۔
عدالت نے محسوسکیا کہ ایکریڈیٹیشن کارڈس کی میعاد ختم ہونے سے صحافیوں کی پیشہ ورانہ رسائی متاثر ہو سکتی ہے۔ 28 فروری کی قریب آتی ہوئی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے بنچ نے اگلی سماعت 26 فروری کومقرر کی۔
سرکاری وکیل نے 12 مارچ تک مہلت طلب کی تاہم عدالت نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے معاملہ کی فوری نوعیت کے پیش نظر جلد سماعت مقرر کی۔
فیڈریشن نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ جی او ایم ایس نمبر 252 اور ترمیم شدہ جی او آر ٹی نمبر 103 کو کالعدم قرار دیا جائے۔ ساتھ ہی مقدمہ زیرسماعت رہنے تک موجودہ ایکریڈیٹیشن کارڈس کی میعاد ختم ہونے سے روکنے کے لئے عبوری احکامات جاری کرنے کی بھی درخواست کی گئی۔
فیڈریشن کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے ایڈوکیٹ برکت علی خان نے مؤقف اختیار کیا کہ ایکریڈیٹیشن کی معیاد میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ آئین ہند کے آرٹیکل 14، 16، 19 اور 21 کے تحت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایکریڈیٹیشن کارڈس میڈیا پیشہ ور افراد کے لئے ادارہ جاتی تحفظ کا درجہ رکھتے ہیں اور ان کی معیاد ختم ہونے سے سینکڑوں صحافیوں اور ان کے ارکان خاندان متاثر ہوں گے۔