حیدرآباد میں غیر مجاز تعمیرات پر تلنگانہ ہائی کورٹ کی سخت کارروائی
عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزار کو اصل نقشے کے مطابق گراؤنڈ فلور اور دو منزلیں تعمیر کرنے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن انہوں نے اس کے باوجود دو اضافی منزلیں اور ایک پینٹ ہاؤس تعمیر کر لیا۔
حیدرآباد: حیدرآباد میں غیر مجاز تعمیرات کے خلاف تلنگانہ ہائی کورٹ نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ایک پراپرٹی مالک پر 3 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔
جسٹس بولم وجئے سین ریڈی نے الکاپور ٹاؤن شپ، نیکنَم پور کی رہائشی ارونا اگروال کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ عمارتوں کی تعمیر سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، انہیں مالی جرمانہ ادا کرنا ہوگا تاکہ عوامی انفراسٹرکچر اور سرکاری وسائل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزار کو اصل نقشے کے مطابق گراؤنڈ فلور اور دو منزلیں تعمیر کرنے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن انہوں نے اس کے باوجود دو اضافی منزلیں اور ایک پینٹ ہاؤس تعمیر کر لیا۔
عدالت کے مطابق اس غیر قانونی تعمیر کے ذریعے تقریباً 8 ہزار سے 10 ہزار مربع فٹ اضافی جگہ بنائی گئی، جس کی مالیت 3 سے 4 کروڑ روپے کے درمیان بتائی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اضافی منزلیں مشترکہ خاندان کی رہائش کے لیے تعمیر کی گئی تھیں اور عدالت سے عمارت کو ریگولرائز کرنے کی درخواست پر غور کرنے کی استدعا کی۔
سماعت کے دوران جسٹس وجئے سین ریڈی نے ریمارکس دیے کہ حیدرآباد میں غیر قانونی تعمیرات ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہیں اور ہر سال ہزاروں درخواستیں صرف انہدامی کارروائی روکنے کے لیے عدالت کا رخ کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب لوگ بلا خوف و خطر قوانین توڑتے ہیں تو اس سے قانون کی پابندی کرنے والے شہریوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔
عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ 2016 میں ریگولرائزیشن کی ایک لاکھ 38 ہزار سے زائد درخواستیں زیر التوا تھیں، جبکہ اب یہ تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ عدالت نے مقامی حکام کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات سیاسی یا بیرونی دباؤ کے باعث غیر قانونی تعمیرات کے ابتدائی مرحلے میں کارروائی نہیں کی جاتی۔
آخر میں عدالت نے درخواست گزار کو 3 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کی شرط پر ریگولرائزیشن درخواست پر غور کرنے کی ہدایت دی، تاہم واضح کیا کہ ریگولرائزیشن خودکار حق نہیں بلکہ موجودہ زوننگ قوانین اور عمارت کی مقررہ اونچائی کی شرائط کے مطابق ہی ممکن ہوگی۔
عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ جرمانے میں سے 2 لاکھ روپے بلدیاتی ادارے کے کنٹریکٹ صفائی کارکنوں اور سیوریج عملے کی طبی سہولیات پر خرچ کیے جائیں گے، جبکہ 1 لاکھ روپے تلنگانہ ہائی کورٹ ایڈووکیٹس ایسوسی ایشن کے ویلفیئر فنڈ میں جمع کرائے جائیں گے تاکہ نوجوان وکلا کی فلاح و بہبود میں استعمال ہو سکیں۔
فی الحال عدالت نے متعلقہ جائیداد پر اسٹیٹس کو برقرار رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے کیس نمٹا دیا ہے۔