تلنگانہ: بغیر لائسنس چلائے جانے والے کلینک پرچھاپہ۔27,879کی دوائیں ضبط
ڈی سی اے حکام نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ہفتہ کے روز گورنمنٹ اسکول کے سامنے واقع ہیما بندو فرسٹ ایڈ سنٹر پر چھاپہ مارا، جسے ویمولا سائی کرشنا نامی شخص چلا رہا تھا۔ تلاشی کے دوران معلوم ہوا کہ مذکورہ شخص مطلوبہ طبی قابلیت یا ادویات کے لائسنس کے بغیر کلینک چلا رہا تھا۔
حیدرآباد: ڈرگس کنٹرول اڈمنسٹریشن(ڈی سی اے) تلنگانہ نے ضلع کریم نگر کے منڈل گنگادھر کے گاؤں گٹو بوتھکور میں ایک نااہل میڈیکل پریکٹشنرکے کلینک پر چھاپہ مار کر فروخت کے لئے غیر قانونی طور پر ذخیرہ کی گئی ادویات ضبط کر لیں۔
ڈی سی اے حکام نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ہفتہ کے روز گورنمنٹ اسکول کے سامنے واقع ہیما بندو فرسٹ ایڈ سنٹر پر چھاپہ مارا، جسے ویمولا سائی کرشنا نامی شخص چلا رہا تھا۔ تلاشی کے دوران معلوم ہوا کہ مذکورہ شخص مطلوبہ طبی قابلیت یا ادویات کے لائسنس کے بغیر کلینک چلا رہا تھا۔
معائنہ کے دوران حکام نے 73 اقسام کی ادویات برآمد کیں جن میں فزیشن کے نمونے، اینٹی بائیوٹکس، اسٹیرائیڈس، درد دور کرنے والی ادویات، ہائی بلڈ پریشر اور السر کی دوائیں شامل تھیں، جن کی مالیت تقریباً 27,879 روپے بتائی گئی ہے۔
حکام کو کلینک سے جدید ترین اینٹی بائیوٹکس جیسے سیفوٹاکسیم، سیفوڈوکسائم اور سیفکسائم بھی ملیں۔ ڈی سی اے حکام نے خبردار کیا کہ نااہل افراد کی جانب سے اینٹی بائیوٹکس کی اندھا دھند فروخت سے عوامی صحت کے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ اسٹیرائیڈس کا غلط استعمال بھی صحت کی شدید پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ چھاپہ ڈرگ انسپکٹر کریم نگر ایس۔ امرانی نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے۔ داس کی نگرانی میں مارا۔ ضبط شدہ ادویات کے نمونے لیبارٹری تجزیہ کے لئے بھیجے گئے ہیں اور ڈرگس اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ 1940 کے تحت ملزم کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔
اس دوران ڈی سی اے نے ہول سیلرس اور ڈیلرسکو بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ نااہل افراد اور بغیر لائسنس کے اداروں کو ادویات فراہم نہ کریں، بصورت دیگر غیر قانونی سپلائی چین میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔