حیدرآباد

تلنگانہ: بین مذہبی شادی، خاتون کانسٹیبل کو کارسے ٹکر کے بعد چاقووں سے حملہ کرتے ہوئے قتل کردیاگیا

اس کے فوراً بعد حملہ آوروں نے کارسے اترکر سڑک پر چاقو وں سے اس پر حملہ کردیا جس کے نتیجہ میں ناگامنی موقع پر ہی ہلاک ہوگئی۔

حیدرآباد: بین مذہبی شادی پر خاتون کانسٹیبل کو کارسے ٹکر کے بعد چاقووں سے حملہ کرتے ہوئے اس کو قتل کردیاگیا۔پیر کی صبح سڑک پر پیش آئی ا س واردات سے سنسنی پھیل گئی۔

متعلقہ خبریں
نمائش سوسائٹی تعلیم و ثقافت کے فروغ میں سرگرم، عظیم الشان سنجیدہ و مزاحیہ مشاعرہ منعقد
مولانا سیداحمد پاشاہ قادری کا سانحہ ارتحال ملت کے لئے نقصان عظیم; مولانا عرفان اللہ شاہ نوری اور مولانا قاضی اسد ثنائی کا تعزیتی بیان
سنگارینی میں معیار کو اولین ترجیح، مقررہ اہداف ہر حال میں حاصل کیے جائیں: ڈی کرشنا بھاسکر
مدرسہ صفۃ المسلمین ناچارم ولیج کا 14واں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد، فضائلِ قرآن پر خطابات، حفاظ کی دستاربندی
غریبوں کو مکانات نہ ملنے پر آواز تنظیم کا کلکٹر سے رجوع

مقتول لیڈی کانسٹیبل کی شناخت حیات نگر پولیس اسٹیشن سے وابستہ ناگامنی کے طورپر کی گئی ہے۔

وہ ڈیوٹی پر اپنی موٹرسائیکل پر جارہی تھی کہ تلنگانہ کے ضلع رنگاریڈی کے ابراہیم پٹنم میں رائے پول تا اینڈلہ گوڑہ راہداری پرایک کارنے اس کی موٹرسائیکل کا تعاقب کیا اور پھر اس کی موٹرسائیکل کوٹکردے دی جس کے ساتھ ہی ناگامنی سڑک پر گرگئی۔

اس کے فوراً بعد حملہ آوروں نے کارسے اترکر سڑک پر چاقو وں سے اس پر حملہ کردیا جس کے نتیجہ میں ناگامنی موقع پر ہی ہلاک ہوگئی۔

اس واردات کے بعد حملہ آوروہاں سے فرارہوگئے۔ناگامنی کی شادی کچھ عرصہ قبل ہوئی تھی تاہم دس ماہ پہلے اس نے شوہر سے علحدگی حاصل کرلی تھی۔ایک ماہ پہلے اس نے دوسرے شخص نے بین مذہبی شادی کی تھی۔

تب سے بتایا جا رہا ہے کہ اس کا گھر میں افرادخاندان سے جھگڑا چل رہاتھا۔ بتایاجاتا ہے کہ مقتولہ خاتون کانسٹیبل کا بھائی اصل ملزم ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کر کے جانچ شروع کر دی۔