تلنگانہ

مرکزی فنڈس سے ہی بلدیات کی ترقی ممکن ہوئی: بنڈی سنجے

بنڈی سنجے نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ چپہ ڈنڈی کے لئے امرت 2.0 اسکیم کے تحت 36 کروڑ 30 لاکھ روپے، 14 ویں اور 15 ویں مالیاتی کمیشن کے ذریعہ 5 کروڑ 57 لاکھ روپے اور سوچھ بھارت مشن کے تحت 42 لاکھ 66 ہزار روپے مرکز نے فراہم کئے ہیں۔

حیدرآباد: مرکزی مملکتی وزیرداخلہ بنڈی سنجے نے کہا ہے کہ کریم نگر کارپوریشن کے بشمول چپہ ڈنڈی اور دیگر بلدی اداروں کی ترقی کے لئے فنڈس مودی حکومت نے فراہم کئے ہیں جبکہ ریاستی حکومتیں ان فنڈس کو استعمال کر کے اپنی ترقی کا دعویٰ کر رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں
پون کلیان کے بیان کی مکمل حمایت: بنڈی سنجے
مرکزی وزیرکشن ریڈی کا دورہ سعودی عرب
انوار العلوم کالج کے فارغین کی ملک و بیرون ممالک منفرد واعلی خدمات – لڑکیاں تعلیم کے میدان میں مزید آگے بڑھیں
اندرامّا مہیلا شکتی اسکیم کے تحت اقلیتی خواتین میں سلائی مشینوں کی تقسیم
کانگریس کی سیاست اقتدار نہیں، عوامی خدمت کے لیے ہے: محمد فہیم قریشی

بلدی انتخابات کی مہم کے سلسلہ میں کریم نگر ضلع کے چپہ ڈنڈی میں منعقدہ ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست کی تمام بلدیات میں جو بھی تھوڑی بہت ترقی نظر آ رہی ہے وہ مرکز کے تعاون کا نتیجہ ہے۔ گلیوں کی لائٹس سے لے کر سڑکوں، ڈرینج، پانی کی فراہمی اور پارکوں کے قیام تک تمام کام مودی حکومت کی رقم سے ہی مکمل ہوئے ہیں۔


بنڈی سنجے نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ چپہ ڈنڈی کے لئے امرت 2.0 اسکیم کے تحت 36 کروڑ 30 لاکھ روپے، 14 ویں اور 15 ویں مالیاتی کمیشن کے ذریعہ 5 کروڑ 57 لاکھ روپے اور سوچھ بھارت مشن کے تحت 42 لاکھ 66 ہزار روپے مرکز نے فراہم کئے ہیں۔

پی ایم سوا ندھی اسکیم کے تحت 1611 افراد نے 2 کروڑ 94 لاکھ روپے کا فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے اپنی ذاتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے چپہ ڈنڈی کے سرکاری اسکولوں میں دسویں جماعت کے تمام طلبہ کو مفت برانڈڈ سائیکلیں فراہم کیں اور ان کی امتحانی فیس بھی ادا کی۔


کانگریس اور بی آر ایس پر تنقید کرتے ہوئے بنڈی سنجے نے کہا کہ ان دونوں جماعتوں کے دور حکومت میں علاقہ کی کوئی ترقی نہیں ہوئی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ 2022 میں 33 کروڑ روپے کی لاگت سے شروع ہونے والے سنٹرل لائٹنگ اور سڑک کی کشادگی کے کام اب تک مکمل نہیں ہو سکے ہیں جو حکمران جماعتوں کی نااہلی کا ثبوت ہے۔