تلنگانہ

تلنگانہ کی پوری دولت ایک خاندان کے ہاتھوں مرکوز: راہول گاندھی

راہول گاندھی نے اپنے الزام کو دہراتے ہوئے کہا کہ بی جے پی، بی آر ایس اور ایم آئی ایم (مجلس) آپس میں ملے ہوئے ہیں اور مل جل کر کام کررہے ہیں۔ دہلی میں بی آر ایس، بی جے پی کی حمایت کرتی ہے۔

جگتیال: تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ پر اپنے حملوں کو تیز کرتے ہوئے کانگریس قائد راہول گاندھی نے جمعہ کے روز الزام عائد کیا کہ تلنگانہ میں ایک خاندان کی حکومت کی ہے اور ریاست کی پوری دولت ایک ہی خاندان کے ہاتھوں مرکوز ہوچکی ہے۔

متعلقہ خبریں
میں بلیوں کونہیں بلکہ شیروں کونشانہ بناؤں گا۔چیف منسٹر کے تبصرہ کے بعد بی آر ایس کیڈرمیں ہلچل
15 فیصد مسلم ریزرویشن سے متعلق کانگریس پر جھوٹا الزام : پی چدمبرم
”بھارت میراپریوار۔ میری زندگی کھلی کتاب“:مودی
راہل نے خط لکھ کر مرمو سے اگنی ویر اسکیم میں مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا
صدر ٹی پی سی سی کے عہدہ کیلئے کانگریس قائدین کی دوڑ دھوپ

انہوں نے آئندہ اسمبلی انتخابات میں اصل مقابلہ ”دورالہ تلنگانہ اور پرجالا تلنگانہ (جاگیرداروں اور عوام)“ کے درمیان رہے گا۔ انہوں نے عوام سے کانگریس کو برسر اقتدار لانے کی اپیل کی ہے تاکہ علیحدہ تلنگانہ کے حقیقی خواب کو پورا کیا جاسکے۔

 جس کے لئے عوام نے نہ صرف جدوجہد کی بلکہ نوجوانوں نے اپنی قیمتی جانوں کو قربان کیا ہے۔ تلنگانہ میں تیسرے دن وجئے بھیری حصہ کے طور پر کانگریس کے سابق صدر نے آج جگتیال میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔

انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ تلنگانہ میں اگر کانگریس برسر اقتدار آتی ہے تو وہ ذات پات پرمبنی رائے شماری کرائے گی۔کانگریس کے اہم پی نے کہا کہ ذات پات پر مبنی رائے شماری، تلنگانہ کے قیام کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کی سمت پہلا قدم رہے گا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ کی پوری دولت چاہے وہ اراضی، ریت یا شراب ہو، ایک خاندان کے ہاتھوں میں ہے۔ آپ نے تلنگانہ میں عوامی حکمرانی کا خواب دیکھاتھا مگر حصول تلنگانہ کے بعد آپ نے یہاں ایک خاندان کی حکومت کو پایا۔

 راہول گاندھی نے اپنے الزام کو دہراتے ہوئے کہا کہ بی جے پی، بی آر ایس اور ایم آئی ایم (مجلس) آپس میں ملے ہوئے ہیں اور مل جل کر کام کررہے ہیں۔ دہلی میں بی آر ایس، بی جے پی کی حمایت کرتی ہے۔ لوک سبھا میں بی جے پی کی تائید و حمایت کرتی ہے۔ اور تلنگانہ میں بی جے پی اور مجلس، بی آر ایس کی تائید کرتے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ جہاں کہیں بھی آسام، مہاراشٹرا اور راجستھان میں کانگریس، بی جے پی کے خلاف لڑتی ہے، وہاں، مجلس اپنے امیدوار کھڑا کرتے ہوئے بی جے پی کیلئے مدد فراہم کرتی ہے۔

 ریاست میں شوگر فیاکٹریوں کو بند کرنے پر انہوں نے بی آر ایس حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور وعدہ کیا کہ برسر اقتدار آنے پر کانگریس ان فیاکٹریوں کا احیاء کرے گی۔ انہوں نے کسانوں سے وعدہ کیا کہ وہ ہلدی کی فصل پر 12ہزار سے 15ہزار فی کنٹل اقل ترین امدادی قیمت فراہم کرے گی۔

کانگریس قائد نے مزید کہا کہ کسان جو بھی فصل اگائیں انہیں اقل ترین امدادی قیمت پر مزید500 روپے زائد ادا کئے جائیں گے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ تلنگانہ  سے ان کا تعلق سیاسی نہیں ہے بلکہ اس ریاست سے ان کی وابستگی خلوص اور خاندان جیسا ہے۔ جواہر لال نہرو کے زمانہ سے کئی دہائیوں پر تلنگانہ سے وابستگی رہی ہے۔

 تلنگانہ سے بطور خاص وابستگی کے تحت انہوں نے تلنگانہ میں کانگریس کی انتخابی مہم کے آغاز کیلئے اپنی بہن پرینکا گاندھی کو مدعو کیا تھا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ کانگریس کے برسر اقتدار آنے پر ریاست میں ذات پات پر مبنی سروے کرائے گی تاکہ اوبی سی کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ ان کی آبادی کتنی ہے اور ان کا کتنا شیئر(حصہ) ہے۔

 ذات پر مبنی رائے شماری کو ایکسرے سے تعبیر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایکسرے کے بعد علاج شروع ہوگا۔ راہول گاندھی نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ ذات پات پر مبنی سروے کے خلاف ہیں۔

 یہ دونوں ذات پر مبنی رائے شماری نہیں چاہتے ہیں۔ او بی سی سخت محنتی ہیں اور یہ طبقہ ملک کی ریڈھ کی ہڈی ہیں لیکن مودی اور کے سیآر نہیں چاہتے کہ او بی سی کو ان کی حقیقی آبادی کے بارے میں معلوم ہو۔ نمائندہ منصف جگتیال کے مطابق سابق صدر کانگریس راہول گاندھی نے آج جگتیال میں نیو بس اسٹانڈ چوراہا  پر کانگریس کی وجئے بھیری یاترا کے سلسلہ میں منعقدہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ عوام سے ان کا تعلق سیاسی نہیں بلکہ یہ رشتہ خاندانی اورخلوص کا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ یہ تعلق اندرا گاندھی‘راجیو گاندھی‘ سونیا گاندھی اور جواہر لال نہرو سے بھی جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے عوامی تلنگانہ کا خواب دیکھا تھا نا کہ دورالہ تلنگانہ کا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست کی بی آرا یس پارٹی اور مرکز کی بی جے پی اور مجلس اتحاد المسلمین میں آپسی تال میل ہے اور یہ پارٹیاں پارلیمنٹ اور اسمبلی میں ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ مہاراشٹرا، راجستھان یا آسام میں ایم آئی ایم ہر جگہ کانگریس کے خلاف امیدوار کھڑا کرکے بی جے پی کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ وہ  پارلیمنٹ میں بی جے پی حکومت کے خلاف لڑتے ہیں اس لئے ان پر کیس لگائے گئے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے ان کی پارلیمانی نشست منسوخ کرادی اور دہلی میں ان کا گھر چھین لیا لیکن میں خوش ہوں کیونکہ مجھے گھر کی ضرورت نہیں پورا ہندوستان میرا گھر ہے تلنگانہ کا ہر گاوں اور شہر میرا گھر ہے۔

 انہوں نے پارلیمنٹ میں  ذات پات پر مبنی مردم شماری کی بات اٹھائی اور ہندوستان کی آبادی میں او بی سی کے اعداد وشمار دریافت کئے لیکن وزیر آعظم نے کوئی جواب نہیں دیا۔انہوں نے کہا کہ وزیر آعظم نہیں چاہتے کہ او بی سی کی اصل آبادی سے عوام واقف ہو۔میں او بی سی کی آبادی 50  فیصد سے زیادہ ہے۔

 ملک کے جملہ بجٹ کا صرف 5 فیصد او بی سی کے لئے مختص کیا جاتا ہے۔راہل گاندھی نے نریندر مودی پر الزام لگایا کہ وہ عوام کی جیب سے پیسہ نکال کر اڈانی کی جیب میں ڈالتے ہیں۔انہوں نے کے سی آر پر الزام لگایا کہ وہ  دورالہ تلنگانہ کی سرپرستی کررہی ہے۔ اس موقع پر صدر تلنگانہ پردیش کانگریس ریونت ریڈی مقامی کانگریس امیدوار ٹی جیون ریڈی اور دیگر قائدین موجود تھے۔

a3w
a3w