ایشیاء

حکومت خواتین کی تعلیم پر عائد عارضی پابندی اُٹھانے کیلئے کام کررہی ہے: ذبیح اللہ مجاہد

طالبان کے اس فیصلے پر عالمی برادری کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تو رد عمل میں طالبان کے اعلی تعلیم کے وزیر ندا محمد ندیم نے اپنے بیانات میں کہا تھا کہ اگر وہ ہم پر ایٹم بم بھی گرا دیں تو بھی ہم اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

کابل: طالبان کے نائب ترجمان بلال کریمی نے افغانستان میں یونیورسٹی میں خواتین کی تعلیم پر پابندی کے فیصلے کو درست قرار دیا ہے۔وہیں افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہےکہ حکومت خواتین کی تعلیم پرعائد عارضی پابندی اٹھانے کے لیے کام کررہی ہے۔

متعلقہ خبریں
تلنگانہ میں 104 امیدواروں کے خلاف فوجداری مقدمات درج
اروند پنگڑیا، 16ویں فینانس کمیشن کے سربراہ مقرر
افغان شہریوں کو جاری ہزاروں پاکستانی پاسپورٹس کی تحقیقات میں سنسنی خیز انکشافات
اکسپریس، پلے ویلگو بسوں میں خواتین کامفت سفر۔ احکام جاری
تعلیم کیلئے مخصوص اسکول کے انتخاب کا حق نہیں: دہلی ہائی کورٹ

عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے بلال کریمی نے کہا کہ طالبان نے خواتین کو وہ حقوق دیے ہیں جو ماضی میں انہیں حاصل نہیں تھے۔

یاد رہے افعانستان کی وزارت اعلیٰ تعلیم کی جانب سے تمام سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں کو بھیجے گئے خط کے مطابق طالبان نے گزشتہ ماہ افغانستان میں خواتین کے لیے یونیورسٹی کی تعلیم پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

طالبان کے اس فیصلے پر عالمی برادری کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تو رد عمل میں طالبان کے اعلی تعلیم کے وزیر ندا محمد ندیم نے اپنے بیانات میں کہا تھا کہ اگر وہ ہم پر ایٹم بم بھی گرا دیں تو بھی ہم اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

دریں اثنا اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے ساتھ ہونے والے اجلاس کے بعد ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر بیان جاری کیا جس میں انہوں نے او آئی سی سے ہونے والی میٹنگ کا خیر مقدم کیا۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ یقیناً عالمی برادری کو افغانستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنا چاہے نہ کہ اس کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کی خواتین کی تعلیم کو لے کر تشویش نا سمجھ میں آنے والی ہے تاہم امارت اسلامی اس معاملے کو حل کرنے کے لیے اقدامات کررہی ہے اور عارضی پابندی کو اٹھانے کیلئے کام کررہے ہیں۔

ترجمان افغان حکومت کا کہنا تھا کہ ہم تمام بین الاقوامی اداروں اور بالخصوص او آئی سی سے امارت اسلامی اور افغان عوام کے ساتھ قریبی تعلقات چاہتی ہیں۔

a3w
a3w