حیدرآباد

شوہر نے بیوی کا قتل کرکے اعضا الگ الگ کرکے ندی میں پھینک دیا۔صرف دھڑ کے ساتھ آخری رسومات اداکردی گئی

پولیس نے ماہر غوطہ خوروں کے ذریعہ نعش کے ٹکڑوں کو کافی تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ملی۔ اس کے باعث پولیس نے مقتول خانتون کے گھر والوں کو بغیر ہاتھ، پیر اور دیگر اعضا کے صرف دھڑ حوالے کردیا۔

حیدرآباد: حیدرآباد کے میڈی پلی میں دن دو دن قبل پیش آئے انتہائی بے ہیمانہ قتل کے واقعہ میں خاتون کی آخری رسومات صرف دھڑ کے ساتھ ادا کی گئی کیونکہ خاتون کے شوہر نے اس کا قتل کرنے کے بعد جسم کے اعضا الگ الگ کرکے موسی ندی میں پھینک دیا تھا۔

متعلقہ خبریں
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
قدیم کیس میں ملے پلی قیصر گرفتار
گورنمنٹ ڈگری کالج فلک نما میں انا–اکّا مینٹورشپ انٹرن شپ تربیتی پروگرام کا آغاز
محرم الحرام 2026 کے انتظامات پر بی جے پی وفد کی کمشنر پولیس حیدرآباد سے ملاقات
جماعتِ اسلامی ہند گریٹر حیدرآباد ویمنز ونگ کے زیرِ اہتمام صحافیوں اور این جی اوز کا اجلاس

پولیس نے ماہر غوطہ خوروں کے ذریعہ نعش کے ٹکڑوں کو کافی تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ملی۔ اس کے باعث پولیس نے مقتول خانتون کے گھر والوں کو بغیر ہاتھ، پیر اور دیگر اعضا کے صرف دھڑ حوالے کردیا۔


اطلاعات کے مطابق مہندر ریڈی نامی شخص نے اپنی بیوی سواتی کو انتہائی بے رحمی سے قتل کرتے ہوئے اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے اور انہیں موسی ندی میں بہا دیا۔ پولیس کو اب تک صرف سواتی کا دھڑ ہی دستیاب ہوا ہے، جبکہ دیگر اعضا کی تلاش 10 کلو میٹر تک جاری رکھنے کے باوجود ناکامی ہی ہاتھ لگی۔

پیر کی رات سواتی کی لاش کواس کے آبائی گاؤں کاماریڈی گوڑہ منتقل کیا گیا، جہاں سخت حفاظتی انتظامات میں آخری رسومات انجام دی گئیں۔ چونکہ ہاتھ، پیر اور سر دستیاب نہیں ہوئے، اس لیے صرف دھڑ کی ہی آخری رسومات انجام دی گئی۔


اس اندوہناک واردات پر گاؤں کے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ دیہاتیوں نے خاتون کے شوہر مہندر ریڈی اور اس کے خاندان کے خلاف شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ انہیں گاؤں میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ عوام نے قاتل کو عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔