مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کا اثر عالمی بازار پر، کیا پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگے ہوجائیں گے؟
ایران نے امریکہ کی حمایت کرنے والے خلیجی ممالک جیسے قطر، کویت، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، بحرین اور عراق پر حملے کیے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں کئی ممالک کو عارضی طور پر خام تیل اور گیس کی پیداوار روکنی پڑی ہے، جس سے عالمی منڈی میں سپلائی مزید کم ہو گئی ہے۔

نئی دہلی: ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اب عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کرنے لگی ہے۔ خاص طور پر تیل کی عالمی منڈی اس بحران سے شدید متاثر ہو رہی ہے اور خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
پیر کے روز عالمی تجارت کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر بڑھ کر تقریباً 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو کافی عرصے بعد اتنی بلند سطح پر دیکھی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق مغربی ایشیا میں جاری جنگ اور غیر یقینی صورتحال کے باعث تیل اور گیس کی عالمی سپلائی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران نے امریکہ کی حمایت کرنے والے خلیجی ممالک جیسے قطر، کویت، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، بحرین اور عراق پر حملے کیے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں کئی ممالک کو عارضی طور پر خام تیل اور گیس کی پیداوار روکنی پڑی ہے، جس سے عالمی منڈی میں سپلائی مزید کم ہو گئی ہے۔
دوسری جانب ایران نے دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں سے ایک آبنائے ہرمز کو بھی بند کر دیا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے روزانہ تقریباً 15 ملین بیرل خام تیل دنیا کے مختلف ممالک تک پہنچایا جاتا ہے، جو عالمی تیل ترسیل کا تقریباً 20 فیصد ہے۔ اس راستے کی بندش کے باعث عالمی سپلائی چین پر شدید دباؤ پیدا ہو گیا ہے۔
اسی دوران ایران میں علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر منتخب کیے جانے کے بعد کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے ایران کے خلاف کارروائی مزید سخت کرنے کے اشارے دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
امریکہ میں پیدا ہونے والا خام تیل عام طور پر نسبتاً سستا سمجھا جاتا ہے، لیکن موجودہ بحران کے باعث اس کی مانگ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی وجہ سے اس کی قیمت بھی بڑھ کر تقریباً 119.48 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
اس بحران کے اثرات صرف عالمی بازار تک محدود نہیں ہیں بلکہ ہندوستانی معیشت بھی اس سے متاثر ہونے لگی ہے۔
ملک میں بجلی پیدا کرنے والے ادارے، کھاد بنانے والی صنعتیں، سی این جی کی فراہمی اور گھریلو گیس کا نظام بڑی حد تک قدرتی گیس پر منحصر ہے۔ قطر کی جانب سے گیس کی پیداوار میں کمی کے اعلان کے بعد ان شعبوں میں مشکلات بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
اس کے علاوہ ہندوستان سے بیرونِ ملک ہونے والی دواؤں، صاف شدہ پٹرولیم مصنوعات اور سمندری خوراک کی برآمدات بھی متاثر ہو رہی ہیں۔
خلیجی خطے میں جنگی صورتحال کے باعث جہازوں کو لمبے راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے نقل و حمل اور بیمہ کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ ہندوستان اپنی ایندھن کی ضرورت کا تقریباً 88 فیصد حصہ بیرونِ ملک سے درآمد کرتا ہے اور اس کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے آتا ہے۔ موجودہ جنگ کے باعث ان ممالک سے سپلائی متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں پٹرول، ڈیزل اور ہوائی جہاز کے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ تقریباً یقینی سمجھا جا رہا ہے۔ حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں موجود تیل کے ذخائر صرف 6 سے 8 ہفتوں کی ضروریات کے لیے کافی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم نہ ہوئی تو اس کا اثر نہ صرف عالمی معیشت بلکہ عام لوگوں کی روزمرہ زندگی پر بھی براہِ راست پڑے گا، کیونکہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہر شعبے کو متاثر کرتا ہے۔