جس کالیشورم پروجیکٹ کو کانگریس نے ناکام قرار دیا، اسی سے 2 لاکھ ایکڑ کو آبپاشی کا پانی: بی آر ایس
تلنگانہ میں کالیشورم پروجیکٹ کے ریورس پمپنگ سسٹم کو لے کر کانگریس حکومت اور بی آر ایس کے درمیان سیاسی تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ بی آر ایس نے دعویٰ کیا ہے کہ جس ریورس پمپنگ طریقہ کار کو کانگریس حکومت نے پہلے فضول اور غیر مؤثر قرار دیا تھا، اب اسی طریقے سے کسانوں کو آبپاشی کے لیے پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔
حیدرآباد: تلنگانہ میں کالیشورم پروجیکٹ کے ریورس پمپنگ سسٹم کو لے کر کانگریس حکومت اور بی آر ایس کے درمیان سیاسی تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ بی آر ایس نے دعویٰ کیا ہے کہ جس ریورس پمپنگ طریقہ کار کو کانگریس حکومت نے پہلے فضول اور غیر مؤثر قرار دیا تھا، اب اسی طریقے سے کسانوں کو آبپاشی کے لیے پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔
بی آر ایس کے مطابق کانگریس حکومت نے کالیشورم پروجیکٹ کے ریورس پمپنگ پر تنقید کرتے ہوئے اسے بیکار قرار دیا تھا، لیکن اب ایس آر ایس پی فلڈ فلو کینال میں پانی پہنچانے کے لیے رام پور پمپ ہاؤس کے موٹروں کو دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔
پارٹی کا کہنا ہے کہ کالیشورم پروجیکٹ کے پمپ ہاؤسز کے ذریعے گوداوری کا پانی ریورس پمپنگ کے ذریعہ ایس آر ایس پی فلڈ فلو کینال تک پہنچایا جا رہا ہے۔
بی آر ایس نے دعویٰ کیا کہ اس پانی کی فراہمی سے تقریباً 2 لاکھ ایکڑ اراضی کو آبپاشی کی سہولت حاصل ہو رہی ہے، جس سے کسانوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
بی آر ایس نے موجودہ صورتحال کو کانگریس حکومت کی سابقہ تنقید سے جوڑتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر ریورس پمپنگ غیر ضروری اور فضول تھی تو اب اسی طریقہ کار کے ذریعے آبپاشی کے لیے پانی کیوں اٹھایا جا رہا ہے۔
کالیشورم پروجیکٹ اور اس کے پمپنگ سسٹم کو لے کر تلنگانہ میں پہلے سے جاری سیاسی بحث کے درمیان پانی کی یہ منتقلی ایک بار پھر دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان لفظی جنگ کا باعث بن گئی ہے۔