حیدرآباد

کورونا کی نئی لہر کی سنگینی کا اندرون ہفتہ پتہ چل جائے گا:سپرنٹنڈنٹ چیسٹ اسپتال حیدرآباد محبوب خان

حیدرآباد کے چیسٹ اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ محبوب خان نے کہاکہ پہلے کورونا نے دنیا بھر میں عالمی وبا کی شکل اختیار کی تھی۔اس کے بعدیہ صرف وبائی مرض میں تبدیل ہوگیاجوصرف چند ممالک تک ہی محدود رہا۔

حیدرآباد: حیدرآباد کے چیسٹ اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ محبوب خان نے کہا ہے کہ کورونا کی نئی لہرکی سنگینی، اس کے پھیلنے اوراعضا پر اس کے اثر کا اندرون ہفتہ یا دس دن پتہ چل جائے گا۔ انہوں نے ایک تلگو نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہاکہ عام طورپر وائرل انفکشن یا وائرس کے آنے کے بعد مرض کوپیدا کرنے والی شدت بتدریج کم ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں
ریاستوں اور زمینوں کی تقسیم  سے دل  تقسیم نہین ہوتے۔
انوار العلوم کالج کے فارغین کی ملک و بیرون ممالک منفرد واعلی خدمات – لڑکیاں تعلیم کے میدان میں مزید آگے بڑھیں
ماہ رمضان المبارک کے لئے جامع لائحہ عمل مرتب کیا جائے!، گیمس اور غیر ضروری ایپس(Apps) کواَن انسٹال کریں: مولانا ڈاکٹر سید احمد غوری نقشبندی
نمائش کلب میں زندہ دلان حیدرآباد کی محفلِ لطیفہ گوئی، “خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں” کا پیغام عام
مسجد نمرہ میں مدرسہ اسلامیہ عثمان اعظم العلوم کا باوقار جلسۂ دستاربندی و عطائے اسناد

 تاہم اسی دوران اس میں تبدیلیاں بھی واقع ہوتی ہیں اور اچانک ایک لہر کے شدید ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ پہلے کورونا نے دنیا بھر میں عالمی وبا کی شکل اختیار کی تھی۔اس کے بعدیہ صرف وبائی مرض میں تبدیل ہوگیاجوصرف چند ممالک تک ہی محدود رہا۔

ا س کے اب علاقائی مرض یاوبا جو صرف ایک ملک میں بعض ریاستوں میں ہوگی میں تبدیل ہونے کا امکان ہے۔ کورونا کی نئی شکل کے سلسلہ میں چوکسی اختیار کی جارہی ہے اور اسپتال میں تمثیلی مشق بھی کی گئی تاکہ آلات اوربستروں کو تیار رکھاجاسکے۔

اس مشق سے پتہ چلتا ہے کہ اسپتال میں ونٹی لیٹرس کا موقف کیا ہے۔درکار دواوں اورآلات کوحاصل کرلیاگیا ہے۔یہ کہتے ہوئے کہ سردی کا موسم ہونے کے نتیجہ میں دمہ اور دیگر امراض زیادہ ہیں، اسی لئے ان میں علامات پائے جانے کی صورت میں کافی زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔کورونا کی پہلے جیسی علامات تھیں ایسی ہی علامات ہیں۔

 انہوں نے کہاکہ اس نئی شکل کے وائرس میں بھی علامات وہی ہیں جو پہلے کورونا کے متاثرین میں تھیں۔انہوں نے کہاکہ زائد عمر والے افراد پراس کا اثردیکھاگیا تھا۔بی پی، ذیابیطس،گردوں کے امراض، کینسرمتاثرین ،سانس لینے میں دشواری کے مسائل کا سامنا کرنے والے افراد،ٹی بی کے متاثرین کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ چھوٹے بچوں اورضعیف افراد کے متاثرہونے کے زائد امکان کے پیش نظران کو احتیاط کی ضرورت ہے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دونوں تلگوریاستوں تلنگانہ اور اے پی سے بڑی تعداد میں ایپا سوامی کیرل جاتے ہیں تاہم واپسی کے بعد ان کو لازمی طورپرچارپانچ دن تک گھروں میں ہی محدود رہنا چاہئے۔

ان کیلئے خود کوالگ تھلگ رکھنابہتر ہوگا۔اگرکسی میں بھی علامات پائی جاتی ہیں توفوری طورپرڈاکٹر سے رجوع ہوتے ہوئے اپنا معائنہ اورعلاج کروائیں تاکہ یہ دوسروں تک نہ پھیل پائے۔انہوں نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ چیسٹ اسپتال میں 303بستر ہیں۔

اس موسم میں دمہ اوردیگر امراض کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ کے پیش نظران متاثرین کے لئے علحدہ وارڈس رکھے گئے ہیں۔مرد مریضوں کیلئے دس بستر اور خاتون مریضوں کیلئے دس بستر علحدہ تیاررکھے گئے ہیں۔کورونا کے زیادہ مریضوں کے آنے کی صورت میں بستروں کی تعداد میں اضافہ کیاجائے گا۔