تلگو ریاستوں میں دھوکہ کے ذریعہ ذاتی تفصیلات کی چوری۔ ایجنٹوں اور دلالوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ
اس مقصد کے لئے عوام سے آدھار کارڈ، پین کارڈ اور ووٹر آئی ڈی کارڈ جیسے شناختی دستاویزات ہتھیا لئے جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ بہت سے عام شہری جنہوں نے کبھی کوئی کاروبار نہیں کیا انہیں انکم ٹیکس کے نوٹس موصول ہو رہے ہیں۔
حیدرآباد: تلگو ریاستوں تلنگانہ اوراے پی میں عام لوگوں کو دھوکہ دے کر ان کی ذاتی تفصیلات کی چوری کرنے والے ایجنٹوں اور دلالوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ لوگ مالیاتی مجرموں اور سائبر لٹیروں کو آسانی سے پیسہ کمانے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔
اس مقصد کے لئے عوام سے آدھار کارڈ، پین کارڈ اور ووٹر آئی ڈی کارڈ جیسے شناختی دستاویزات ہتھیا لئے جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ بہت سے عام شہری جنہوں نے کبھی کوئی کاروبار نہیں کیا انہیں انکم ٹیکس کے نوٹس موصول ہو رہے ہیں۔
متاثرہ افراد کو اس وقت صدمہ پہنچتا ہے جب انہیں پتہ چلتا ہے کہ ان کے بینک کھاتوں میں غیر قانونی طور پر بڑی رقوم جمع ہو رہی ہیں یا ان کے نام پر قرض لئے گئے ہیں جس کے بعد وہ پولیس سے رجوع کر رہے ہیں۔
حیدرآباد کے ایک تاجر کی مثال سامنے آئی ہے جنہوں نے قرض کے لئے ایک ایجنٹ سے رابطہ کیا اور اپنی تمام تفصیلات اسے دے دیں۔ ایجنٹ نے یہ کہہ کر قرض دینے سے انکار کر دیا کہ ان کا”سبل اسکور“ کم ہے لیکن تین ماہ بعد بینک سے نوٹس ملنے پر تاجر کے ہوش اڑ گئے جس میں بتایا گیا تھا کہ ان کے نام پر 5 لاکھ روپے کا پرسنل لون لیا گیا ہے جس کی قسطیں ادا نہیں کی جا رہی ہیں۔
دراصل یہ گروہ ریٹائرڈ ملازمین، چھوٹے تاجروں، دیہاڑی دار مزدوروں اور گھریلو خواتین کو نشانہ بناتا ہے۔ انہیں سرکاری اسکیموں کے ذریعہ قرض دلوانے کا جھانسہ دے کر ان کے نام پر سم کارڈ نکالے جاتے ہیں اور نئے بینک اکاؤنٹ کھولے جاتے ہیں۔ متاثرین کو چند ہزار روپے ماہانہ کا لالچ دے کر ان کی پاس بک، ڈیبٹ کارڈ اور سم کارڈ بیرون ملک بیٹھے سائبر مجرموں کو فروخت کر دیئے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا کے ذریعہ ایسے ایجنٹ بھرتی کئے جا رہے ہیں جو اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو کمیشن کا لالچ دے کر ان کے بینک اکاؤنٹ کھلواتے ہیں۔ ان معصوم لوگوں کے شناختی کارڈس کا استعمال کر کے فوری طور پر فرضی کمپنیاں بنائی جاتی ہیں اور متاثرین کو ان کا ڈائریکٹر یا صدر نامزد کر دیا جاتا ہے جس کا انہیں علم تک نہیں ہوتا۔
جب ان کھاتوں کے ذریعہ کروڑوں روپے کی غیر قانونی لین دین ہوتی ہے تو پولیس کی گرفت میں وہی عام شہری آتے ہیں۔ بعض تاجر تو ان پٹ ٹیکس کریڈٹ (آئی ٹی سی) کی سبسیڈی حاصل کرنے اور ٹیکس چوری کے لئے بھی غریبوں کے نام پر جی ایس ٹی رجسٹریشن کروا کر فرضی کاروباری دستاویزات تیار کر رہے ہیں۔
سٹی سائبر کرائم کے اے سی پی شیو ماروتی نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی اجنبی کے ساتھ اپنی ذاتی معلومات، آدھار یا پین کارڈ شیئر نہ کریں۔ اگر کسی کو شک ہو کہ اس کے پین کارڈ پر کسی نے قرض لیا ہے یا جی ایس ٹی نمبر رجسٹر کرایا ہے تو اسے فوری طور پر متعلقہ حکام سے رابطہ کرنا چاہیے۔ مالی دھوکہ دہی کی صورت میں بغیر کسی تاخیر کے پولیس میں شکایت درج کروانا ضروری ہے تاکہ قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔