دہلی

بیالٹ پیپر کے ذریعہ الیکشن، کانگریس کی درخواست کی سماعت نہیں

سپریم کورٹ نے جمعہ کے دن کانگریس کی ایک درخواست ِ مفادِ عامہ(پی آئی ایل) کو سماعت کے لئے قبول کرنے سے انکار کردیا جس میں الیکشن کمیشن کو یہ ہدایت دینے کی گزارش کی گئی تھی کہ آنے والا لوک سبھا الیکشن بیالٹ پیپر کے ذریعہ کرایا جائے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کے دن کانگریس کی ایک درخواست ِ مفادِ عامہ(پی آئی ایل) کو سماعت کے لئے قبول کرنے سے انکار کردیا جس میں الیکشن کمیشن کو یہ ہدایت دینے کی گزارش کی گئی تھی کہ آنے والا لوک سبھا الیکشن بیالٹ پیپر کے ذریعہ کرایا جائے۔

متعلقہ خبریں
مرشدآباد میں رام نومی پر جھڑپیں، الیکشن کمیشن ذمہ دار: ممتا
جموں وکشمیر میں انتخابات ”صحیح وقت پر“ ہوں گے
الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ٹیم کا آئندہ ماہ دورہ تلنگانہ
اب ادھو ٹھاکرے سے ”مشعل“ بھی چھیننے کی کوشش
الیکشن کمیشن بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کرے گا

جسٹس سنجیو کھنہ کی بنچ‘ جنرل سکریٹری کانگریس متھرا ضلع کمیٹی کی درخواست کی سماعت کررہی تھی جس میں الکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے تعلق سے تشویش ظاہر کی گئی تھی۔ بنچ نے پوچھا کہ ہم کتنی درخواستوں کی سماعت کریں؟ ہم مفروضوں میں نہیں جاسکتے۔

ہر طریقہ کار کے مثبت اور منفی نکات ہوتے ہیں۔ ہم اس درخواست کی سماعت نہیں کرسکتے۔ پی ٹی آئی کے بموجب بنچ نے درخواست گزار نندنی شرما سے جو شخصی طورپر حاضر عدالت ہوئیں‘ کہا کہ ہم نے حال میں وی وی پیاٹ سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔

سوری‘ ہم دستور کی دفعہ 32 کے تحت آپ کی درخواست کی سماعت نہیں کرسکتے۔ نندنی شرما نے الیکشن کمیشن آف انڈیا اور 6 سیاسی جماعتوں کو اپنی درخواست میں فریق بنایا تھا۔