حیدرآباد یونیورسٹی تلنگانہ حکومت کا ’معروف علمی ادارہ‘ بنی
یونیورسٹی کی جانب سے پیر کو جاری بیان میں کہا گیا کہ تلنگانہ پلاننگ ڈپارٹمنٹ نے یونیورسٹی کی کثیر شعبہ جاتی تحقیقی مہارت اور پالیسی معاونت کی صلاحیتوں کو تسلیم کرتے ہوئے یہ نامزدگی کی ہے، جس سے ریاست میں شواہد پر مبنی بہتر طرز حکمرانی کو فروغ ملے گا۔
حیدرآباد: حیدرآباد یونیورسٹی کو نیتی آیوگ کے اسٹیٹ سپورٹ مشن (ایس ایس ایم) کے تحت تلنگانہ حکومت کے لیے باضابطہ طورپر لیڈ نالج انسٹی ٹیوشن (ایل کے آئی) کے طورپرنامزد کیا گیا ہے
یونیورسٹی کی جانب سے پیر کو جاری بیان میں کہا گیا کہ تلنگانہ پلاننگ ڈپارٹمنٹ نے یونیورسٹی کی کثیر شعبہ جاتی تحقیقی مہارت اور پالیسی معاونت کی صلاحیتوں کو تسلیم کرتے ہوئے یہ نامزدگی کی ہے، جس سے ریاست میں شواہد پر مبنی بہتر طرز حکمرانی کو فروغ ملے گا۔
اس اقدام کے تحت یونیورسٹی مختلف سرکاری محکموں کو تحقیق پر مبنی پالیسی تجاویز، تکنیکی مہارت، نگرانی و جائزہ فریم ورک، ڈیٹا تجزیہ، علاقائی مطالعات اور صلاحیت سازی سے متعلق تعاون فراہم کرے گی۔
یونیورسٹی، پلاننگ ڈپارٹمنٹ اور دیگر ریاستی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر تلنگانہ کی ترقیاتی ترجیحات اور وژن-2047 اہداف کے مطابق موضوعاتی عملی منصوبے اور پالیسی سفارشات تیار کرے گی۔
یہ تعاون معیشت و مالیات، زراعت، صنعت و بنیادی ڈھانچہ، صحت، تعلیم، ٹیکنالوجی و صنعت کاری، شہری ترقی، ڈیٹا تجزیہ اور انسانی وسائل کی ترقی سمیت کئی اہم شعبوں پر مرکوز رہے گا۔
اس موقع کا خیر مقدم کرتے ہوئے قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر جے انورادھا نے کہا کہ یہ قبولیت یونیورسٹی برادری کے لیے فخر کی بات ہے۔ انہوں نے اس ذمہ داری کے لیے تلنگانہ حکومت کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے اساتذہ اور محققین کو علمی تحقیق کو عملی عوامی پالیسی میں تبدیل کرنے اور ریاست کی ہمہ گیر و پائیدار ترقی میں تعاون دینے کا موقع ملے گا۔
انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کا ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سیل مختلف تعلیمی شعبوں اور تحقیقی مراکز کی فعال شمولیت کے ساتھ اس مشن کی ہم آہنگی کرے گا۔