اسرائیل کو مزید 151.8 ملین ڈالر کے ہتھیار فروخت کی منظوری
محکمۂ خارجہ کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے فیصلہ کیا کہ ایک ہنگامی صورت حال موجود ہے جس کے باعث اسرائیل کو فوری طور پر اسلحہ فروخت کرنا ضروری ہے، محکمۂ خارجہ کے بیان کے مطابق اسرائیل نے 12 ہزار BLU-110A/B جنرل پرپز بم باڈیز (ایک ہزار پاؤنڈ وزنی) کی درخواست کی تھی
واشنگٹن : امریکہ نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دینے کے لیے کانگریس کے جائزے کے عمل کو نظر انداز کر دیا اور ہنگامی صورت حال میں 151.8 ملین ڈالر کے ہتھیار فروخت کرنے کی منظوری دے دی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی محکمۂ خارجہ نے جمعہ کو کہا کہ اس نے اسرائیل کو 151.8 ملین ڈالر مالیت کے گولہ بارود اور اس سے متعلق معاونت کی فروخت کی منظوری دے دی ہے اور اس معاملے کو کانگریس کے جائزے کے لیے پیش نہیں کیا گیا۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اس فیصلے کے لیے ہنگامی اختیار استعمال کیا، تاکہ کانگریس کی نظرِثانی کی شرط کو ختم کیا جا سکے، امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ہتھیاروں میں ایک ہزار پاؤنڈ کی 12 ہزار بم باڈیز شامل ہیں، اس کے ساتھ انجینئرنگ، لاجسٹکس اور تکنیکی معاونت کی خدمات بھی فراہم کی جائیں گی، یہ ہتھیار خطرات سے نمٹنے کی اسرائیلی صلاحیتوں کو بہتر بنائیں گے۔
محکمۂ خارجہ کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے فیصلہ کیا کہ ایک ہنگامی صورت حال موجود ہے جس کے باعث اسرائیل کو فوری طور پر اسلحہ فروخت کرنا ضروری ہے، محکمۂ خارجہ کے بیان کے مطابق اسرائیل نے 12 ہزار BLU-110A/B جنرل پرپز بم باڈیز (ایک ہزار پاؤنڈ وزنی) کی درخواست کی تھی۔ بیان میں کہا گیا کہ اس معاہدے کا مرکزی ٹھیکیدار ٹیکساس میں قائم کمپنی ریپکان یو ایس اے ہوگی۔
محکمۂ خارجہ نے مزید کہا کہ وزیرِ خارجہ روبیو نے یہ بھی طے کیا ہے کہ یہ فروخت ’’امریکہ کے قومی سلامتی کے مفاد میں‘‘ ہے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان کے ڈیموکریٹ رکن گریگوری مِیکس نے کہا کہ کانگریس کے جائزے کو نظر انداز کرنے کے لیے ہنگامی اختیارات استعمال کرنے کا روبیو کا فیصلہ اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے لیے مناسب تیاری نہیں کی گئی تھی۔
انھوں نے ایک بیان میں کہا ’’ٹرمپ انتظامیہ بار بار یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ وہ اس جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار تھی۔ لیکن کانگریس کو نظر انداز کرنے کے لیے ہنگامی اختیارات کا جلدی استعمال ایک مختلف کہانی بیان کرتا ہے۔ یہ ہنگامی صورت حال دراصل ٹرمپ انتظامیہ کی اپنی پیدا کردہ ہے۔‘‘