مشرق وسطیٰ

امریکہ اسرائیل کی حمایت میں جنگی جہاز، لڑاکا طیارے بھیج رہا ہے: آسٹن

امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اتوار کو کہا کہ ان کا ملک حماس کے جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی کرنے والے اسرائیل کی حمایت میں مشرقی بحیرہ روم کے علاقے میں جنگی جہاز اور لڑاکا طیارے بھیج رہا ہے۔

واشنگٹن: امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اتوار کو کہا کہ ان کا ملک حماس کے جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی کرنے والے اسرائیل کی حمایت میں مشرقی بحیرہ روم کے علاقے میں جنگی جہاز اور لڑاکا طیارے بھیج رہا ہے۔

متعلقہ خبریں
پرینکا چوپڑا نے بالی ووڈ چھوڑنے کی وجہ بتاتی
لندن اور انڈونیشیا میں ہزاروں افراد کا جنگ روکنے کیلئے مارچ
جنوبی غزہ میں اسرائیل کے حملے 16 فلسطینی جاں بحق
سعودی عرب کا اسرائیل کے خلاف اہم بیان
22جنوری کو رام مندر کا افتتاح،واشنگٹن میں ایک ماہ طویل تقاریب کا آغاز

مسٹر آسٹن نے اپنے بیان میں کہا کہ یو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ کیریئر اسٹرائک گروپ کو مشرقی بحیرہ روم کی طرف روانہ کیا گیا ہے،جو کہ ایک طیارہ بردار بحری جہاز، ایک گائیڈڈ میزائل کروزر اور چار گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز پر مشتمل ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے ہیڈکوارٹر پنٹاگن نے بھی امریکی فضائیہ کے ایف-35، ایف-15، ایف-16 اور اے-10 لڑاکا طیاروں کے اسکواڈرن کو علاقے میں

آگے بڑھنے کے لئے اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اسرائیل کی دفاعی افواج جنگی مواد سمیت اضافی ساز و سامان اور وسائل تیزی سے فراہم کرائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے لیے امریکی سیکیورٹی امداد کی پہلی کھیپ اتوار سے روانہ ہوگی اور آنے والے دنوں میں پہنچے گی۔

اسرائیلی میڈیا نے سرکاری حکام کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکہ نے یہ فیصلہ ہفتے کو حماس کی طرف سے اسرائیل پر ہزاروں راکٹ فائر کیے جانے کے بعد کیا ہے جس کے بعد اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا اور اب تک کم از کم 700 اسرائیلی مارے جا ہو چکے ہیں۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق، اسرائیلی فورسز نے حماس کے زیر کنٹرول غزہ میں فضائی حملوں کا جواب دیا، جس میں کم از کم 313 فلسطینیوں کی موت ہو چکی ہے۔

اس سے قبل اتوار کو اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے باضابطہ طور پر اعلان کیا تھا کہ وہ آنے والے دنوں میں غزہ میں موثر فوجی آپریشن کرے گا۔