دہلی

دہلی میں محرم جلوس میں تشدد، 3کیسس درج

مغربی دہلی کے نانگلوئی میں محرم جلوس میں حصہ لینے والی بے قابو بھیڑ کی پولیس سے جھڑپ اور سنگباری کے بعد تین کیسس درج کرلئے گئے۔

نئی دہلی: مغربی دہلی کے نانگلوئی میں محرم جلوس میں حصہ لینے والی بے قابو بھیڑ کی پولیس سے جھڑپ اور سنگباری کے بعد تین کیسس درج کرلئے گئے۔

متعلقہ خبریں
محرم کو سرکاری سطح پر منانے حکومت سے مطالبہ
مرشدآباد میں رام نومی پر جھڑپیں، الیکشن کمیشن ذمہ دار: ممتا
ہلدوانی تشدد کی مجسٹرئیل تحقیقات کا حکم۔ 6 کروڑ کا نقصان
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹ لیڈر کی گرفتاری کے خلاف طلبہ کا احتجاج
منی پور میں 4 ماہ کے تشدد میں 175ہلاکتیں، 32 افراد لاپتہ

عہدیداروں نے اتوار کے دن یہ بات بتائی۔ جھڑپوں میں 12افراد بشمول 6 پولیس والے زخمی ہوگئے۔پولیس علاقہ کا سی سی ٹی وی فوٹیج کھنگال رہی ہے اور وہ ہفتہ کے دن سوشل میڈیا پرزیرگشت ویڈیوز کا بھی تجزیہ کررہی ہے۔

خاطیوں کی نشاندہی کیلئے کئی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ صورتحال نارمل ہے اور نظم وضبط برقرار رکھاجارہا ہے۔ ایس ایچ او نانگلوئی پربھودیال سنگھ نے یہ بات بتائی۔ ہفتہ کے دن محرم جلوس میں حصہ لینے والے بعض لوگوں کی پولیس سے جھڑپ ہوگئی تھی۔

انہوں نے پولیس پر سنگباری کی تھی اور کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔ 12افراد زخمی ہوگئے۔ جھڑپ اس وقت ہوئی جب انہیں روٹ بدلنے سے روکا گیا۔ پربھودیال سنگھ نے کہا کہ نانگلوئی علاقہ میں کئی تعزیہ جلوس نکالے گئے اور ان میں 8 تا10ہزار افراد نے حصہ لیا۔

مین رخ تک روڈ پر ایک یا دومنتظمین بے قابوہوئے اور انہوں نے اس روٹ سے انحراف کرنے کی کوشش کی جو تعزیہ داروں کے ساتھ میٹنگ میں طئے پائی تھی۔ پولیس انہیں طئے پائی روٹ سے نہ ہٹنے کو کہتی رہی لیکن چند شرپسندوں نے پولیس پرسنگباری شروع کردی۔

راہ چلتے لوگوں کی سیفٹی یقینی بنانے پولیس نے ہلکا لاٹھی چارج کرکے بھیڑ کو منتشرکردیا۔ اس وقت خواتین‘بچے اور موٹرسائیکل سوار وہاں سے گزررہے تھے۔ بعدازاں تعزیہ جلوس پرامن طریقے سے نکالے گئے۔