حیدرآباد

وقف ترمیمی بل 2024: مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے صدر کا حیدرآباد دورہ عنقریب، دانشوران قوم سے تجاویز پیش کرنے کی اپیل

مرکزی حکومت نے بی جے پی کے رکن پارلیمان جگدمبیکا پال کی سربراہی میں ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس کمیٹی میں لوک سبھا کے 21 اور راجیہ سبھا کے 10 ارکان شامل ہیں۔

حیدرآباد: وقف ترمیمی بل 2024 کے مسودے کے خلاف مختلف حلقوں، خصوصاً مسلمانوں کی جانب سے شدید مخالفت کے پیش نظر، مرکزی حکومت نے بی جے پی کے رکن پارلیمان جگدمبیکا پال کی سربراہی میں ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس کمیٹی میں لوک سبھا کے 21 اور راجیہ سبھا کے 10 ارکان شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
وارث سرکاروطن ؒ مولانا پیر نقشبندی سے ڈاکٹر ذاکر شاہ افتخاری کی 25رکنی وفد کے ہمراہ روحانی ملاقات
وقف ترمیمی بل، مرکزی حکومت کے ارادے نیک نہیں ہیں: جعفر پاشاہ
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
گورنمنٹ ڈگری کالج فلک نما میں انا–اکّا مینٹورشپ انٹرن شپ تربیتی پروگرام کا آغاز

کمیٹی نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ جو افراد مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو تجاویز پیش کرنا چاہتے ہیں، وہ اپنی یادداشت پارلیمنٹ ہاؤس، نئی دہلی کو روانہ کریں۔

اس عمل کو مزید سہولت بخش بنانے کے لیے، تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے مستقل مدعو رکن عتیق صدیقی خرم نے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے صدر جگدمبیکا پال سے ملاقات کی اور انہیں حیدرآباد آنے کی دعوت دی تاکہ کمیٹی براہ راست تجاویز اور یادداشتیں وصول کرسکے۔

جگدمبیکا پال نے اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ جلد ہی حیدرآباد پہنچ کر درخواستیں، تجاویز اور یادداشتیں وصول کریں گے۔ عتیق صدیقی خرم نے ملت کے دانشوروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔