حیدرآباد

انتخابی شیڈول کی اجرائی کے ساتھ ہی حیدرآباد میں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ

حیدرآباد ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر رونالڈ روز نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے انتخابی شیڈول کی اجرائی کے ساتھ ہی 9 اکتوبر کو 12 دن سے حیدرآباد کے 15 اسمبلی حلقہ جات میں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذالعمل ہوچکا ہے۔

حیدرآباد: حیدرآباد ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر رونالڈ روز نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے انتخابی شیڈول کی اجرائی کے ساتھ ہی 9 اکتوبر کو 12 دن سے حیدرآباد کے 15 اسمبلی حلقہ جات میں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذالعمل ہوچکا ہے۔

متعلقہ خبریں
ماہ صیام کا آغاز، مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اعلان
حیدر آباد کے 5 لاکھ 41 ہزار بوگس ووٹ فہرست سے حذف
41 برسوں کے بعد کسی وزیراعظم کا دورہ عادل آباد
حلقہ اسمبلی نامپلی سے بہوجن مکتی پارٹی امیدوار نذیر احمد انصاری کا پرچہ نامزدگی داخل
انتخابی ڈیوٹی پر 2.5 لاکھ اسٹاف کی تعیناتی:وکاس راج

انتخابی شیڈول کے مطابق حیدرآباد کے 15 اسمبلی حلقہ جات میں متعلقہ ریٹرننگ آفیسر 3 نومبر سے پرچہ نامزدگیاں وصول کریں گے۔

پرچہ نامزدگی کی آخری تاریخ 10 نومبر‘ پرچوں کی تنقیح کی تاریخ 13 نومبر اور دستبرداری کی تاریخ 15 نومبر ہوگی۔ 30 نومبر کو رائے دہی ہوگی اور 3 دسمبر کو ووٹوں کی گنتی ہوگی اور 5 دسمبر کو انتخابی عمل کا اختتام ہوگا۔

رونالڈ روز آج کمشنر پولیس سی وی آنند کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ رونالڈ روز نے بتایا کہ ضلع حیدرآباد کے 15 اسمبلی حلقہ جات میں سکندرآباد کنٹونمنٹ واحد حلقہ ہے جو ایس سی محفوظ ہے۔ ماباقی 14 حلقہ جات جنرل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ شہر کے 15 حلقہ جات میں رائے دہندوں کی مجموعی تعداد 44 لاکھ 42 ہزار 458 ہے‘ جس میں 22 لاکھ 79 ہزار 617 مرد اور 21 لاکھ 62 ہزار 541 خاتون رائے دہندوں کی تعداد ہے۔

جبکہ زنخے ووٹرس کی تعداد 404‘ این آر آئی رائے دہندوں کی تعداد 847‘ معذور رائے دہندوں کی تعداد 24,163 اور 80 سال سے زائد رائے دہندوں کی تعداد 83,588 ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد ڈسٹرکٹ میں 1688 مقامات پر 3986 پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔

رائے دہندوں کو شک و شبہ کو دور کرنے دفتر جی ایچ ایم سی  میں کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے‘ کسی بھی شکایت کے لئے ٹول فری نمبر 1800-599-2999 پر 24 گھنٹہ درج کرواسکتے ہیں۔ اگر انتخابی ضابطہ اخلاق کے خلاف ورزی کی شکایت کی جاتی ہے۔

C-Whistle ایپ کے ذریعہ 100 منٹ میں اس مسئلہ کا حل کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ سیاسی جماعتوں کو جلسوں‘ ریالیوں‘ لاوڈسپیکر کے استعمال اور ہیلی پیاڈ کے استعمال کے لئے قبل ازوقت اجازت حاصل کرنا ہوگا۔ پرنٹ اینڈ الیکٹرانک میڈیا‘ سوشیل میڈیا پر اشتہار‘ پوسٹرس‘ پمفلٹس کی طباعت اور تشہیر کے لئے ایم سی ایم سی کمیٹی سے سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا۔ جو بھی انتخابی ضابطہ اخلاق کے خلاف ورزی کریں گے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ‘ شراب رقومات کی منتقلی کے خلاف 90 فلائنگ اسکواڈس قائم کئے جائئیں گے۔

ہر ایک اسمبلی حلقہ میں جلسوں‘ ریالیوں اور دیگر انتخابی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لئے ویڈیو گرافی کی ایک ٹیم تشکیل دی جائے گی۔ پولیس کمشنر سی وی آنند نے بتایا کہ حیدرآباد میں 1587 حساس پولنگ اسٹیشنوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ انتخابات کے دوران شہر میں جی ایس ٹی کے بشمول انٹی گریٹیڈ چیک پوسٹ قائم کئے جارہے ہیں۔

جن میں کمرشیل ٹیکس‘ جی ایچ ایم سی‘ آر ٹی اے‘ اکسائز‘ نارکو ٹکس کے عہدیدار 24 گھنٹہ موجود رہیں گے۔ شراب کی دکانات پر سی سی کیمرہ نصب کئے جائیں گے۔ تاکہ شراب نوشی کو روکا جاسکے۔ رقم منتقل کرنے والی گاڑیوں کی GPS سسٹم سے تلاشی لی جائے گی۔ اگر کوئی منتقلی کی جانے والی رقومات کی رسائد یا ثبوت پیش کریں گے تو انہیں اس کے استعمال کی اجازت رہے گی۔

جو لوگ مقرر حد سے زیادہ رقم ساتھ لے جائیں گے تو انہیں اس کی تفصیلات پیش کرنا ہوگا۔ ووٹرس کو بس سواری یا دیگر سواریوں کامفت انتظام کریں گے تو ان سے پوچھ تاچھ کی جائے گی۔ سی وی آنند نے بتایا کہ پرامن انتخابات کے لئے 32 مرکزی فورسس کی کمپنیوں کو فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔