بنگلہ دیش میں مہلک نِیپاہ وائرس سے خاتون ہلاک
متاثرہ خاتون کی عمر تقریباً 40 تا 50 سال تھی اور وہ نوگان ضلع کی رہائشی تھی، خاتون میں 21 جنوری کو نِپاہ وائرس کے علامات ظاہر ہوئیں، جن میں بخار، سردرد، زیادہ تھوک آنا، الجھن اور دورے شامل تھے تاہم خاتون ایک ہفتے بعد انتقال کرگئی اور اگلے دن وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔
ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں نپاہ وائرس سے متاثرہ خاتون کی موت ہوگئی، خاتون میں 21 جنوری کو وائرس کے علامات ظاہر ہوئیں تھیں۔
تفصیلات کے مطابق ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے تصدیق کی ہے کہ بنگلہ دیش میں ایک خاتون نِپاہ وائرس سے ہلاک ہو گئی۔
متاثرہ خاتون کی عمر تقریباً 40 تا 50 سال تھی اور وہ نوگان ضلع کی رہائشی تھی، خاتون میں 21 جنوری کو نِپاہ وائرس کے علامات ظاہر ہوئیں، جن میں بخار، سردرد، زیادہ تھوک آنا، الجھن اور دورے شامل تھے تاہم خاتون ایک ہفتے بعد انتقال کرگئی اور اگلے دن وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔
خاتون نے حال ہی میں کچے کھجور کے رس کا استعمال کیا تھا اور اس کا کوئی سفر کا ریکارڈ نہیں تھا تاہم 28 جنوری کو اسپتال میں داخل ہونے کے بعد خون اور تھروٹ کے نمونے لیے گئے اور 29 جنوری کو لیبارٹری میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق خاتون سے رابطے میں آنے والے تمام 35 افراد کی نگرانی کی جا رہی ہے اور اب تک ان میں وائرس کے آثار نہیں ملے۔
یہ کیس ہندوستان کے مغربی بنگال میں سامنے آنے والے دو نِپاہ وائرس کیسز کے بعد آیا ہے، جس کے بعد کئی جنوبی ایشیا کے ممالک نے ہوائی اڈوں پر سخت صحت معائنہ اور نگرانی کے اقدامات کیے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے چیف نے کہا کہ نِپاہ ایک نایاب مگر سنگین بیماری ہے، جس کے خلاف حکام سرگرمی سے کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیماری کی نگرانی، ٹیسٹنگ، روک تھام کے اقدامات، اور عوامی آگاہی بڑھائی جا رہی ہے تاکہ لوگ اپنی حفاظت کر سکیں۔
رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش میں 2001 سے اب تک تقریباً 348 نِپاہ وائرس کے کیسز سامنے آ چکے ہیں، جن میں سے نصف کیسز ایسے افراد میں ہوئے جو کچے کھجور کے رس کا استعمال کر چکے تھے، وائرس کے شکار افراد میں شرح اموات 40 فیصد سے 75 فیصد تک ہو سکتی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق نِپاہ وائرس کی کوئی مخصوص ویکسین یا دوائی دستیاب نہیں ہے اور یہ وائرس زیادہ تر چمگادڑ سے انسانی منتقلی کے ذریعے پھیلتا ہے، خصوصاً آلودہ پھل یا کھجور کے رس کے ذریعے۔
ملائیشیا، تھائی لینڈ، انڈونیشیا، سنگاپور اور پاکستان سمیت متعدد ممالک نے ہوائی اڈوں پر درجہ حرارت کی نگرانی شروع کر دی ہے۔ سنگاپور نے مغربی بنگال سے آنے والے مزدوروں کے لیے 14 دن تک روزانہ درجہ حرارت اور علامات کی نگرانی لازمی کر دی ہے۔