دہلی جنتر منتر احتجاج , پولیس کارروائی پر سپریم کورٹ سخت برہم
دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج اور 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے دوران پیش آنے والے واقعات پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ عدالت نے پرامن احتجاج کو مبینہ طور پر دبانے کے طریقہ کار پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کے لیے سابق جج کی سربراہی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دینے کی ہدایت دی۔
نئی دہلی: دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج اور 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے دوران پیش آنے والے واقعات پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ عدالت نے پرامن احتجاج کو مبینہ طور پر دبانے کے طریقہ کار پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کے لیے سابق جج کی سربراہی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دینے کی ہدایت دی۔
سماعت کے دوران عدالت نے طلبہ اور مظاہرین کے خلاف مبینہ طور پر پیلٹ گنوں اور الیکٹرک لاٹھیوں کے استعمال پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا۔ ججوں نے پولیس کی جانب سے احتجاج سے نمٹنے کے طریقہ کار پر سوالات اٹھاتے ہوئے مظاہرین کے خلاف کارروائی کے دوران متعدد نوجوانوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات پر تشویش ظاہر کی۔
سپریم کورٹ نے 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے دوران پیش آنے والے واقعات کی مکمل تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا۔ عدالت اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ پولیس کارروائی کے دوران کیا حالات پیدا ہوئے اور مظاہرین کو کس طرح کی مبینہ چوٹیں آئیں۔
سابق جج کی نگرانی میں ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مقصد معاملے کی آزادانہ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کو یقینی بنانا ہے۔ ایس آئی ٹی کی تشکیل اور تحقیقات کے دائرہ کار سے متعلق مزید تفصیلات آئندہ عدالتی کارروائی کے دوران سامنے آنے کی توقع ہے۔