تلنگانہ

تلنگانہ میں بچوں کے خلاف جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ، گزشتہ سال پوکسو کے 3,029 مقدمات درج

چائلڈ رائٹس کارکنوں اور سماجی تنظیموں نے بچوں کے خلاف جنسی جرائم کی روک تھام میں حکومت کی مبینہ ناکامی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست کے مختلف علاقوں سے تقریباً روزانہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، جس سے بچوں کے تحفظ کے لیے موجودہ نظام کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

حیدرآباد: تلنگانہ میں بچوں کے خلاف جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال ریاست میں بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ فراہم کرنے والے قانون (POCSO) کے تحت 3,029 مقدمات درج کیے گئے۔

چائلڈ رائٹس کارکنوں اور سماجی تنظیموں نے بچوں کے خلاف جنسی جرائم کی روک تھام میں حکومت کی مبینہ ناکامی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست کے مختلف علاقوں سے تقریباً روزانہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، جس سے بچوں کے تحفظ کے لیے موجودہ نظام کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

سماجی کارکنوں کے مطابق مختلف سرکاری محکموں کے درمیان مناسب تال میل نہ ہونے کی وجہ سے متاثرہ بچوں اور ان کے اہل خانہ کو متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ پوکسو کے تحت شکایت درج کرانے والے متاثرین اور ان کے خاندانوں کو مناسب سکیورٹی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ متاثرہ بچوں کو بروقت کونسلنگ اور بحالی کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔

کارکنوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ایسے مقدمات میں ملزمان اور جرائم پیشہ عناصر کی مؤثر نگرانی نہیں کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق متاثرین کے تحفظ اور مستقبل میں جرائم کی روک تھام کے لیے پولیس، محکمہ داخلہ، چائلڈ ویلفیئر حکام، پروبیشن افسران اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر تال میل ضروری ہے۔

حالیہ شاداب واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے ناقدین نے الزام عائد کیا کہ حکومت متاثرین کو مناسب تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس واقعے کے بعد بچوں اور ان کے خاندانوں کو قانونی کارروائی کے دوران اور اس کے بعد مؤثر سکیورٹی فراہم کرنے کے مطالبات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔

سماجی کارکنوں نے ضلعی سطح پر بعض پروبیشن افسران کے مبینہ غیر ذمہ دارانہ رویے پر بھی سوال اٹھائے ہیں اور مطالبہ کیا ہے کہ بچوں سے متعلق مقدمات میں ذمہ دار افسران کی کارکردگی کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے اور غفلت برتنے والوں کے خلاف جوابدہی طے کی جائے۔

کارکنوں نے تلنگانہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی جائے، پوکسو قانون پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، مختلف محکموں کے درمیان تال میل بہتر کیا جائے اور متاثرین کو سکیورٹی، کونسلنگ اور قانونی مدد فراہم کی جائے۔

سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ صرف پوکسو کے تحت مقدمات درج کرنا کافی نہیں، بلکہ حکومت کو ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے، بچوں کو تحفظ فراہم کرنے اور متاثرین کو جلد انصاف دلانے کے لیے مؤثر نظام وضع کرنا ہوگا۔