آزادی میں مدارس کا رول اور حکومتوں کا رویہمدارس اسلامیہ پر یلغار کوئی نئی چیز نہیں

ایک ہو جائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبین ، ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا بات بنے۔ ہمیں برادران وطن کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اگر آج ملک کو آزادی ملی ہے تو اس میں سب سے بڑا رول مدارس کا ہی ہے۔ اگر علامہ فضل حق خیرآبادی کا فتوی، تحریک شہیدین اور تحریک ریشمی رومال نہ ہوتی، علمائے صادق پور نے اپنی گردنیں نہ کٹائی ہوتیں،تو آج ہم ہر گز آزاد نہ ہوتے۔اس لئے ہمیں علما اور مدارس دونوں کی قدر کرنی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ مدارس جہاں سے انسانیت اور محبت کا پیغام دیا جا رہا ہے ملک کی بنیادی ضرورت ہیں،جو راشٹر نرمان میں سب سے بڑا کام کرر ہے ہیں۔

کلیم الحفیظ (نئی دہلی)

ہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہماری سرکاریں عموماً ایسے ایشوز کو اچھالتی ہیں جن سے عوام کا کوئی سرو کار نہیں ہوتا ہے، ممکن ہے کہ انہیں اس سے وقتی طور سے کوئی فائدہ ہوجائے، لیکن دائمی فائدے کی توقع فضول ہے، کیونکہ بھارت کی مٹی میں نہ نفرت ہے، نہ ہی اس نے نفرت کے سودا گروں کو کبھی جگہ دی ہے۔ یہ اتنا عظیم ملک ہے جسکے بارے میں علامہ اقبال جو خود مدارس کے تربیت یافتہ تھے،فرماتے ہیں ’میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے، میروطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے‘۔ آپ تصور کریں کہ یہی مدارس کا فارغ جب شری رام چندر جی کا تذکرہ کرتا ہے تو وہ جہاں انہیں فخریہ’امام الہند‘ کہتا ہے،وہیں وہ انہیں ’چراغ ہدایت‘ بھی کہتا ہے۔ اگر ہمارے موجودہ رہنمائوں نے علامہ اقبال کو ہی پڑھ لیا ہوتا تو شاید وہ اپنی نیت بد سے باز آجاتے۔
تاہم اس کی وضاحت ضروری ہے کہ اگر کسی انسان کا یہ ارادہ ہے کہ وہ مدارس پر حملہ کرکے اسلام کو کچھ نقصان پہونچا سکتا ہے تو یہ اس کی غلط سوچ ہے۔ اسے قرآن مقدس کو پڑھنا چاہئے جس میں واضح طور پر موجود ہے جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے ’نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن، پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا‘۔اس لئے کسی کو ایسی غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے چاہے وہ عام ہو یا خاص کہ وہ اسلام کا کچھ نقصان کر سکتا ہے۔موجودہ دور میں دلتوں، آدیواسیوں، کمزروروں، اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں یا ان کی شناخت پر ہو رہے سرکار ی اور غیر سرکار ی حملوں سے یہ بات تو بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ ہمارے ملک کے معماروں کو اس بات کا اچھی طرح اندازہ تھا کہ آنے والی دہائیوں میں کچھ ایسے لوگ اقتدار میں آئیں گے جوملک کی روح پر وار کریں گے۔
اسی لئے انہوں نے آئین میں اس بات کی ضمانت دی کہ اقلیتوں کو اپنی پسند کے ادارے بنانے چلانے اور سنوارنے کا پورا اختیار ہے، باوجود اس کے کہ سرکار ان کی مدد کرتی ہو‘۔ اچھی بات یہ ہے کہ یہ چیز آئین کی اس شق کا حصہ ہے جسے بدلا بھی نہیں جا سکتا ہے۔ اس لئے آپ نے ماضی میں دیکھاہوگا کہ سیدھے آئین پر حملے کئے گئے، حتی کہ اس کو جلایا گیا اور اس کو بدلنے کی بات ہوئی تاکہ اس کی روح کو ختم کیا جا سکے۔ اس لئے ہمیں حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے آئینی روح کو آگے لے جانے کی ضرورت ہے۔ سائوتھ سے لے کر نارتھ اور نارتھ ایسٹ تک ایسالگتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنمائوں میں کمپٹیشن چل رہا ہے کہ کون کتنا زہر مسلمانوں کے خلاف اگل سکتا ہے، تاکہ اس کا پرموشن اس کی گالی کے حساب سے ہو۔
یہ بدقسمتی ہی کہی جائے گی کہ دہلی کے سابق وزیراعلیٰ کے فرزند پرویش ورما اور ہماچل کے سابق وزیراعلیٰ کے فرزند انوراگ ٹھاکرجیسے پڑھے لکھے قابل لوگوں نے ماضی میں مسلمانوں کے خلاف جو کچھ کہا اس کی اجازت بھارت میں تو کم از کم نہیں دی جاسکتی۔ پڑھے لکھے، کوالیفائڈ اور خاندانی لوگ اگر یہ کریں گے تو نادانوں سے پھر کس چیز کی توقع کی جائے۔ اسی راستے کو اختیار کیا ایک یوگی نے، جبکہ یوگی کی عظمت اور برادری سے گیتا بھری پڑی ہے، مگر انہوں نے کرشن کے راستے سے ہٹ کر کام کیا۔ پہلے مسلمانوں کے گھروں کو عدلیہ کے فیصلوں کے بغیر بلڈوز کرنے کا فیصلہ صادر کردیا تاکہ وہ ہندو ہردے سمراٹ بن سکیں، اور پھر اس سے دو قدم آگے بڑھتے ہوئے آسام کے وزیراعلیٰ نے تعلیمی ادارں کو بلڈوز کرنے کا یہ جواز یہ کہہ کر نکا ل لیا کہ وہاں کچھ مشتبہ لوگ رہتے تھے۔
اب سوال یہ ہے کہ کس عدالت نے یہاں رہنے والے کچھ لوگوں کے خلاف کوئی فیصلہ صادر کیا تھا؟ وزیراعلیٰ محترم خود ہی منصف بن گئے اور مدرسوں کو بلڈوز کرنے کا فیصلہ صادر فرمادیا۔ اگر شبہہ ہی کی بنیاد پر سرکار کوئی سزا عدالت کے فیصلہ کے بغیر دیناچاہتی ہے تو پھر ماضی میں ایسے ان گنت واقعات مل جائیں گے جس میں آر ایس ایس کے لوگوں پر مشتبہ سرگرمیوں میں شامل ہونے کا الزام عائد ہوا، خود ہماری آرمی ا ن الزامات سے نہیں بچ سکی، بہت سے مٹھ کے پجاریوں دوسرے مذاہب کے رہنمائوں پر سنگین الزامات عائد ہوئے۔ کیا سرکار ان سب کے مراکز کو بلڈوز کرے گی؟ یقیناً نہیں تو پھر کمزوروں اور غریبوں کی تعلیم گاہوں کو برباد کرکے اسے کیا ملے گا؟ اگر ماضی میں بھی سرکاروں نے اسی طرح کا رویہ اپنایا ہوتا تو پھر راجہ رام موہن رائے جو جدید ہندوستان کے ریفارمر کہے جاتے ہیں، جو اسلام اور مسیحی تعلیمات سے متاثر تھے وہ اردو اور فارسی پر دسترس کیلئے کس مدرسے میں جاتے؟
سچر کمیٹی کے اعدادو شمارہمیں یہ بتاتے ہیں کہ مدارس میں چار فیصد مسلمان پڑھتے ہیں۔ باقی ۶۹ فیصد جو مدارس میں نہیں پڑھتے سرکار کو ان کی کوئی خبر نہیں ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ سرکار کی طرف سے بارہا کہا گیا کہ وہ مدرسوں کی امداد اور ان کو مارڈنائز کرنا چاہتی ہے، لیکن یہ صرف جھوٹ ہے۔ سرکار کی حب الوطنی کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج ہمارے لئے پاکستان جیسے غریب اور کمزور ملک کو بینچ مارک کے طور پر پیش کیا جارہا ہے جبکہ کل تک جو امریکا اور جاپان ہماریے بنچ مارک ہوا کرتے تھے۔ ملک کے جو بنیادی مسائل ہیں ان سے چشم پوشی کرکے سرکار مدرسوں کے پیچھے پڑ گئی ہے اور وزیراعظم خاموش ہیں ، جو تکلیف کی بات ہے۔
گذشتہ پانچ سالوں سے جن مدارس کے لوگوں کو تنخواہ نہیں ملی ہے، ان میں سے کئی لوگ خود کشی کرچکے ہیں اور بڑی بات یہ ہے کہ ان میں ہندو ٹیچر بھی شامل ہیں،اس کے باوجود سرکار اس پر کنڈلی مارے ہوئے ہیتو یہ بتاتا ہے کہ سرکار کی کتھنی اور کرنی میں واضح فرق ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق رام پور میں وزیراعلیٰ کے دورے کے دوران ظہر کی اذان مائک سے دینے نہیں دی گئی، کیا یہی قانون اور آئین کی بالادستی ہے یا سنگھی ایجنڈے کا نفاذ ہے؟ ابھی حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح مغربی یوپی میں نمازپڑھنے پر ایف آئی آر ہوگئی اورسوائے ایک لیڈر کے پورا بھارت خاموش رہا، ہمیں اس سمت میں بھی سوچنے کی ضرورت ہے۔
جہاں تک رہی بات مدارس کے سروے کی تو سرکار سروے کے بہانے آخر کرنا کیا چاہتی ہے۔ خبر یہ ہے کہ این سی پی سی آر کی رپورٹ پر یہ سروے کروایا جا رہا ہے۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو سروے صرف مدارس کاہی کیوں؟ کیوں نہیں اور دوسرے مذہبی اداروں کا؟جبکہ سرکار کے پاس پہلے سے ہی مدارس کا پورا ڈاٹا ضلع سطح پر(UDISE) موجود ہے، پھر نئے سروے سے ڈاٹا اکٹھا کرنے کا مطلب کیا ہیوہ بھی گاجے باجے کے اعلان کے ساتھ؟ کیا یہ سنگھ کے کسی ایجنڈے کے نفاذ کیلئے کوئی پیش قدمی کرنا ہے؟ ایسے میں اہل مدارس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مقاصد کو پہچانیں۔
غور کریں کہ وہ آج مولانا آزاد جیسے لوگ پیدا کرنے سے قاصر کیوں ہیں؟ دنیا کی عظیم اسلامک یونیورسٹی جامعہ ازہر سے لے کر دیوبند تک کی شروعات ایک مسجد سے ہی ہوئی تھی۔ مورکو کی فاطمہ الفہریہ القرشیہ نے دنیا کو ڈگری کا نظام دیا۔ دہلی میں موجود جامعہ رحمانیہ کے بوریہ نشین علما نے انگریزوں کے دانت کھٹے کر دیئے۔ اپنی اس عظیم تاریخ کو دہرانے سے آخر ہم قاصر کیوں ہیں ؟ اپنے راستوں کو ہمیں اور مضبوط بنانا ہے۔ابھی وقت ہے کہ تمام مکاتب فکر کے علما سر جوڑ کراسی طرح بیٹھیں جس طرح جب ندوۃ العلما لکھنو پر مصیبت آئی تو مولانا ثنااللہ امرتسری جیسے لوگ مسلک سے اوپر اٹھ کر مذہب کی فکر کرتے ہوئے آگے آئے۔
ایک ہو جائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبین ، ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا بات بنے۔ ہمیں برادران وطن کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اگر آج ملک کو آزادی ملی ہے تو اس میں سب سے بڑا رول مدارس کا ہی ہے۔ اگر علامہ فضل حق خیرآبادی کا فتوی، تحریک شہیدین اور تحریک ریشمی رومال نہ ہوتی، علمائے صادق پور نے اپنی گردنیں نہ کٹائی ہوتیں،تو آج ہم ہر گز آزاد نہ ہوتے۔اس لئے ہمیں علما اور مدارس دونوں کی قدر کرنی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ مدارس جہاں سے انسانیت اور محبت کا پیغام دیا جا رہا ہے ملک کی بنیادی ضرورت ہیں،جو راشٹر نرمان میں سب سے بڑا کام کرر ہے ہیں۔