مضامین

خدا تمہارے تکبر کی خیریت رکھے

حضوراکرمؐ کا ارشاد مبارک ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک طلاق سب سے زیادہ ناپسندیدہ اجازت ہے۔ آپ آقائے دوجہاںؐ یہ بھی فرماتے ہیں کہ جب کہیں طلاق کی نوبت آتی ہے تو عرش معلی دہل جاتاہے۔ اگر ہم اس وقت اپنے ارد گرد کے واقعات کا جا ئزہ لیں تو پتہ چلتاہے کہ جہاں شادیاں بڑی جدوجہد‘ بڑی عرق ریزی اورغیرمعمولی جاں فشانی کے بعد انجام پارہی ہیں تو وہیں طلاق کے اتنے سانحے ہمارے سامنے آرہے ہیں کہ بس دل کانپ اٹھتاہے۔

ڈاکٹر شجاعت علی صوفی آئی آئی ایس‘پی ایچ ڈی
ـCell : 9705170786

l طلاق کے واقعات مسلم سماج کی عزت پر زبردست دھبہ۔

l چھوٹی چھوٹی باتوں پر خلع کی نوبت مذموم حرکت۔

l قربانی اور ایثار طلاق کو روک سکتے ہیں۔

l اسلامی نظام سے دوری تباہی کا اصل سبب۔

l عدالتوں میں جانا خودکشی کے مترادف ۔

حضوراکرمؐ کا ارشاد مبارک ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک طلاق سب سے زیادہ ناپسندیدہ اجازت ہے۔ آپ آقائے دوجہاںؐ یہ بھی فرماتے ہیں کہ جب کہیں طلاق کی نوبت آتی ہے تو عرش معلی دہل جاتاہے۔ اگر ہم اس وقت اپنے ارد گرد کے واقعات کا جا ئزہ لیں تو پتہ چلتاہے کہ جہاں شادیاں بڑی جدوجہد‘ بڑی عرق ریزی اورغیرمعمولی جاں فشانی کے بعد انجام پارہی ہیں تو وہیں طلاق کے اتنے سانحے ہمارے سامنے آرہے ہیں کہ بس دل کانپ اٹھتاہے۔ حال ہی میں ایک ایسا واقعہ نظروں سے گزرا ہے کہ افہام وتفہیم کی کئی بیٹھکوں کے باوجود میاں بیوی کے ساتھ ساتھ دونوں ہی خاندانوں کے ذمہ داروں کے مابین کوئی سمجھوتہ نہ ہوسکا اور دشمنی اتنی بڑھی کہ پڑھے لکھے خاندانوں کے ان افراد نے اپنے ہاتھوں میں لاٹھیوں کے بجائے بلیاں اٹھالیں اور لڑکی کے پیشہ ور ڈاکٹر بھائی نے اپنے بہنوائی کے چھوٹے بھائی کو دے مارا(اس عمل سے مظلوم خاندان ظالموں کی تعریف میں آگیا) نتیجہ کیا ہونا تھا؟ وہی ہوا یعنی اس نوجوان کا سر پھٹ گیا‘ محلے والے جمع ہوگئے‘ پولیس آئی‘ پنچ نامہ کیا‘ دونوں خاندانوں کے بڑوں کو گرفتار کیا‘ انہیں پولیس اسٹیشن لیجایا گیا‘ کیس درج ہوا اور اب یہ خاندان اپنے افراد خاندان کے علاوہ پولیس کے جوانوں کی بھی ’’خدمت‘‘ کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو پڑھا لکھا کہتے ہیں اور جو واقعی ان پڑھ ہیں ان کو برا بھلا کہتے ہیں لیکن ایسی حرکتیں دیکھنے کے بعد ان دو طبقوں میں کیا کوئی امتیاز باقی رہ گیا ہے؟ اگر نہیں رہا تو ایک ہی بات ثابت ہوتی ہے کہ ہم نہ تو اخلاق کو اہمیت دے رہے ہیں‘ نہ کردار کو اور نہ ہی اپنے مذہبی اقدار کو۔

چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں!
نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دلنوازی کی
نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے
نہ میرے دل کی دھڑکن لڑکھڑائے میری باتوں سے
نہ ظاہر ہو تمہاری کشمکش کا راز نظروں سے
تعلق روگ ہوجائے تو اس کو بھولنا بہتر
تعلق بوجھ بن جائے تو اس کو توڑنا اچھا
وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن
اسے اک خوبصورت موڑ دیکر چھوڑنا اچھا

ساحر نے اس نظم کے ذریعہ ہمارے سلگتے ہوئے سماج کو ایک پیغام دیاہے کہ ہم شخصی مخاصمت‘ شخصی بے بسی اور شخصی لعنتوں کو اپنے سماج پر مسلط کرنے کے بجائے اس طرح کے مسائل کی بہتر ڈھنگ سے یکسوئی کرلیں تاکہ اس طرح کے افسوسناک اور مذموم واقعات کا ہمارے معاشرہ پر کوئی برا اثر نہ پڑے۔ ایک طرف تو ہم رشتہ توڑنے کی باتیں کرتے ہیں اور پھر دوسری طرف نان نفقہ لینے کے لئے عدلیہ سے رجوع ہوجاتے ہیں۔ یہ کس طرح کی سوچ ہے؟ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک لڑکا اور لڑکی کی حال ہی میں علحدگی ہوگئی۔ لڑکے نے لڑکی سے خواہش کی کہ وہ کال سنٹر میں کام نہ کرے کیونکہ اس کی آمدنی خاطرخواہ ہے جس سے وہ بہترین زندگی گزارسکتے ہیں۔

لیکن لڑکی اس بات پر بضد رہی کہ وہ وہیں پر کام کرے گی اور رات ہی کی ڈیوٹی انجام دے گی۔ لڑکا مسلسل اصرار کرتارہا کہ وہ اس کی بات مان لے‘ لڑکی نے بات نہیں مانی اور نتیجہ طلاق کی شکل میں ظاہر ہوا۔ یہاں پر لڑکا بالکل حق پر کھڑا تھا جبکہ لڑکی اپنی بیہودہ ضدپر اڑی رہی۔ بہرحال طلاق ہوگیا۔ لڑکی والوں نے لڑکے کو 5 لاکھ روپئے جوڑے کی رقم دیئے تھے۔ لڑکے والوں نے بھی 5 لاکھ سے کچھ زائد ہی کا زیور چڑھایاتھا۔ لڑکی والے طلاق کے باوجود پولیس سے رجوع ہوئے۔ اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے لڑکے والوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ 5 لاکھ روپے واپس کریں۔

لڑکے والے کہتے ہیں کہ ہم رقم دینے کیلئے تیار ہیں تم ہمارا زیور لوٹادو۔ لیکن لڑکی والوں کی یہ ہٹ دھرمی ہے کہ وہ زیور واپس نہیں کریںگے اور 5 لاکھ بھی واپس لے لیںگے۔ یہ کس طرح کا رجحان ہے۔ اس پر ملت کو توجہ مرکوز کرنی ہوگی؟۔ دوسری جانب پٹنہ سے ایک ایسی خبر آئی ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ یہاں ثناء اللہ نام کے ایک لڑکے نے اپنی رفیق حیات فریدہ خاتون کو صرف اس بنیاد پر طلاق دے دیاہے کہ اس کی بیوی نے اس کا سیل فون کال رسیو نہیں کیا۔

یقیناً اس کے اس قدم سے اللہ تعالیٰ کا عرش دہل گیا ہوگا۔ بنگلور کے روزنامہ دکن ہیرالڈ مورخہ 10 ستمبر 2014 کی خبر کے مطابق ثناء اللہ خان حیدرآباد میں ملازمت ملنے سے پہلے تک اپنے سسرال میں اپنی بیوی کے ساتھ بڑی خوشگوار زندگی گزار رہاتھا۔ واقعہ یہ ہے کہ فریدہ خاتون کے رشتہ داروں کے ہاں ایک شادی تھی ثناء اللہ اس شادی میں ملازمت کی وجہ سے شریک رہنے سے قاصر رہا۔ بہرحال فریدہ اس شادی میں شریک تھی اور وہیں مختلف رسموں کے دوران ثناء اللہ نے اپنی رفیق حیات کو فون کیا لیکن باجہ گاجے کی گڑبڑ کی وجہ وہ فون رسیو نہ کرسکی۔

جب اس نے مس کال دیکھاتو فوراً کال بیک کیا۔ لیکن غصے سے شرابور شوہر نے اس کے فون کو نہ صرف نظرانداز کردیا بلکہ بہار کے گوپال گنج ضلع کی عدالت میں طلاق کا مقدمہ ہی دائر کردیا۔ بہرحال کئی رشتے تکبر کی وجہ سے بھی ٹوٹ گئے ہیں۔ اس پس منظر میں شاعر نے کتنی خوبصورت بات کہی ہے کہ
خدا تمہارے تکبر کی خیریت رکھے

سنبھل کے رہنا بہت سر اٹھائے پھرتے ہو


۰۰۰٭٭٭۰۰۰