نہ سمجھا عمر گزری اس بت کافر کو سمجھاتے
امریکہ اور اسرائیل کی بربریت اور ظلم و زیادتی کا اب خاتمہ ہونے کو ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ جو ہے تو ستر سال کے اوپر لیکن ذہنی طورپر وہ نابالغ دکھائی دیتے ہیں۔ گھڑی میں تولہ گھڑی میں ماشہ ان کا معمول بن گیا ہے لیکن تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ڈونالڈ ٹرمپ اور نتن یاہو کے درمیان لبنان اور ایران کو لے کر بے حد تلخیاں پیدا ہوگئیں ہیں اور ٹرمپ کو اس بات کا اندازہ ہوچکا ہے کہ انہیں مٹھی بھر یہودیوں کے لئے عالمی سطح پر بدنام نہیں ہونا چاہئے۔
ڈاکٹر شجاعت علی صوفی آئی آئی ایس‘پی ایچ ڈی
Cell : 9705170786
امریکہ اور اسرائیل کے بیچ زبردست اختلافات۔
کانگریس میں ٹرمپ کی زبردست شکست ۔
جنگ کرنے کے اختیارات چھین لیئے گئے۔
کیا آپ پاگل ہو۔ ٹرمپ کا نتن یاہو سے سوال۔
امریکہ اسرائیل کی مدد چھوڑ دے تو ایک کوڑی کا ہوجائے گا۔
امریکہ اور اسرائیل کی بربریت اور ظلم و زیادتی کا اب خاتمہ ہونے کو ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ جو ہے تو ستر سال کے اوپر لیکن ذہنی طورپر وہ نابالغ دکھائی دیتے ہیں۔ گھڑی میں تولہ گھڑی میں ماشہ ان کا معمول بن گیا ہے لیکن تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ڈونالڈ ٹرمپ اور نتن یاہو کے درمیان لبنان اور ایران کو لے کر بے حد تلخیاں پیدا ہوگئیں ہیں اور ٹرمپ کو اس بات کا اندازہ ہوچکا ہے کہ انہیں مٹھی بھر یہودیوں کے لئے عالمی سطح پر بدنام نہیں ہونا چاہئے۔ امریکہ کے ایک انتہائی با اثر کانگریس مین دانشور تھامس میسی نے امریکہ سے یہ کہا ہے کہ وہ اسرائیل کی فلاح کے نام پر مدد کرنا بند کردے تو یقینا اسرائیل امریکہ کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجائے گا۔ تھامس نے یہ بات اس وقت کہی جب ٹرمپ نے اسرائیل کے وزیراعظم کو یہ کہا کہ ’’تم ایک پڑلے درجہ کے بیہود شخص ہو، تمہاری چھچھوری حرکتوں کی وجہ سے عالمی سطح پر امریکہ کو یہ دن دیکھنا پڑا ہے اور ساری دنیا تمہیں بھی اب نفرت سے دیکھنے لگی ہے۔
کانگریس کے قائد تھامس میسی نے ڈونالڈ ٹرمپ سے یہ کہا کہ آپ صرف ایک مہینہ کے لئے اسرائیل کی مدد کرنا چھوڑ دیں تو آپ دیکھیں گے کہ وہ پڑوسی ملکوں پر بمباری نہیں کرسکے گا۔ ان کے اس جملے نے سارے حالات بدل دیئے ہیں۔ قارئین جانتے ہیں کہ امریکہ کو کئی برسوں سے یہ کہا جارہا تھا کہ اسرائیل اپنے بل بوتے پر کام کرتا ہے اور امریکہ اسرائیل پر قابو نہیں پاسکتا۔ اسرائیل کے سامنے واشنگٹن کا کوئی اثر نہیں ہے۔ اگر امریکہ ان کی بات کو مان لیتا ہے تو ساری دنیا دیکھے گی کہ اسرائیل نہتا ہوجائے گا۔ تھامس کا کہنا ہے کہ امریکیوں کے ٹیکسوں کو بم ، میزائیل، جیٹس ، گولہ بارود ، تیل اور فوجی ساز وسامان اسرائیل کو فراہم کرنے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ جنگ کی یہ مشینیں مسلسل چل رہی ہیں کیونکہ امریکہ اس کی مدد کرتا ہے۔
جب کوئی آدمی سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیل کی مدد کو روکنے کی بات کہتا ہے تو اس پر سیاسی طورپر حملہ کیا جاتا ہے۔ امریکہ کے شہری سمندری ٹرانسپورٹ کی رکاوٹ کے سبب انتہائی مہنگے داموں پر تیل اور گیس خرید رہے ہیں۔ مشرقی وسطیٰ سے اسرائیل کے خراب تعلقات راست طورپر امریکیوں کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اب ٹرمپ خود بے حد پریشان ہے۔ پیسہ تو امریکہ کا ہے لیکن جئے جئے کار اسرائیل کی ہوتی ہے۔ اگر فنڈنگ روک دی جائے تو سارے عالم کو خطرات سے بچایا جاسکتا ہے اور اسرائیل کو بھی کیفر کردار تک لے جایا جاسکتا ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ امریکہ کے ایک اور صدر ہیں جن کے بظاہر اسرائیلی وزیراعظم سے اختلافات پیدا ہو چکے ہیں۔ اس کی وجہ لبنان میں اسرائیلی عسکری کارروائی بتائی جا رہی ہے جس نے ایران کے ساتھ سفارتی حل کو مشکل بنا دیا ہے۔ تہران نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کے بعد امریکہ سے بات چیت معطل کرنے کا عندیہ دیا تھا کہ یہ ایک غیر مقبول جنگ ہے اور اس سے باہر نکلنے کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کو ممکنہ طور پر دھچکہ پہنچایا تھا۔ نیو یارک پوسٹ کو دیے گئے انٹرویو کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے ساتھ فون پر ہونے والی اس گفتگو کی بھی تصدیق کی، جس میں انھوں نے اسرائیلی وزیر اعظم کے لیے نامناسب الفاظ بھی استعمال کیے تھے۔
انٹرویو کے دوران میزبان نے سوال کیا کہ آپ نے نیتن یاہو سے فون پر بات کی تھی، جس میں آپ نے ان پر غصہ کیا تھا اور کہا تھا ’کیا آپ پاگل ہو؟ یہ آپ کیا کر رہے ہو؟ میں نے آپ کی جیل سے باہر رہنے میں مدد کی۔‘ کیا آپ (ٹرمپ) نے ان سے اس طرح سے بات کی تھی؟‘ امریکی صدر نے اس گفتگو کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’جی ہاں، میں نے کی تھی۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں غصے میں تھا، میں ان کی لبنان سے مسلسل لڑائی کے سبب کچھ پریشان سا ہو گیا تھا۔‘ ’میں نے کہا ہمیں اسے روکنا پڑے گا۔‘لیکن دوسرے ہی لمحہ صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا ان سے ایک بہت اچھا تعلق ہے۔
ہم نے ساتھ مل کر اچھا کام کیا ہے، میں بی بی (نیتن یاہو) کو بہت پسند کرتا ہوں اور میں نے ان کے ساتھ اچھا کام کیا ہے۔‘ٹرمپ پہلے امریکی صدر نہیں ہیں جو نیتن یاہو سے الجھ بیٹھے ہیں۔ نیتن یاہو امریکی صدور کے صبر کو آزمانے کی پرانی تاریخ رکھتے ہیں۔
اور سیاسی طور پر کسی نقصان سے بچنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ دوسری جانب خود نیتن یاہو نے اس بارے میں کہا ہے کہ ’اچھے خاندانوں کی طرح کبھی کبھی اختلاف رائے ہوتا ہے۔‘ سی این بی سی کو دیے جانے والے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم ہمیشہ کوئی راستہ نکال لیتے ہیں، اور اچھے دوستوں کی طرح رہنے لگتے ہیں۔‘ نیتن یاہو نے کہا کہ ’دونوں کے درمیان صبح میں اختلاف ہو سکتا ہے اور دوپہر تک اتفاق ہو جاتا ہے۔‘ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ٹرمپ کی نیتن یاہو سے ہونے والی بات چیت امریکی اور اسرائیلی عسکری اور سیاسی مقاصد کی ہم آہنگی کے حوالے سے امریکی مایوسی کی جانب اشارہ کر سکتی ہے جو ایران جنگ سے جڑی ہے۔ بہرحال ذلیل و خوار اسرائیل کے بارے یہی کہا جاسکتا ہے کہ
نہ سمجھا عمر گزری اس بت کافر کو سمجھاتے
پگھل کر موم ہوجاتا اگر پتھر کو سمجھاتے
۰۰۰٭٭٭۰۰۰