ایک دن اس ظلم کے بادل چھٹ ہی جائیں گے
وزیراعظم نریندر مودی اور عظیم ہندوستان کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کے درمیان آج پورے ملک میں تقابلی بحث کی جارہی ہے۔ نریندر مودی ، پنڈت جواہر لعل نہرو کی جو 12سالہ معیاد تھی اس کو عبور کرکے بہت اترارہے ہیں لیکن سچائی یہ ہے کہ پنڈت نہرو نے اپنے 12سالہ دور میں ہندوستان کی ایک ایسی مضبوط داغ بیل ڈالی تھی جو 2014 کے بعد بکھر گئی۔
ڈاکٹر شجاعت علی صوفی آئی آئی ایس‘پی ایچ ڈی
ـCell : 9705170786
l نہرو کا دور حکومت تعمیری۔ مودی کی حکومت تخریبی
l نہرو خاندان نے آزادی کے بعد ملک کو 196 کروڑکا عطیہ دیا
l اترپردیش بیف فراہم کرنے میں نمبر ون
l سنگھ پریوار دہرے معیار کا حامل ۔l مودی نے صنعتوںکو بیج دیا
وزیراعظم نریندر مودی اور عظیم ہندوستان کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کے درمیان آج پورے ملک میں تقابلی بحث کی جارہی ہے۔ نریندر مودی ، پنڈت جواہر لعل نہرو کی جو 12سالہ معیاد تھی اس کو عبور کرکے بہت اترارہے ہیں لیکن سچائی یہ ہے کہ پنڈت نہرو نے اپنے 12سالہ دور میں ہندوستان کی ایک ایسی مضبوط داغ بیل ڈالی تھی جو 2014 کے بعد بکھر گئی۔ انہوں نے جتنے پبلک سیکٹر انڈسٹریز قائم کئے تھے اس کی اکثریت کو نریندر مودی نے بیج ڈالا۔ حتی کہ منافع کرنے والے ادارے بھی ان کی بے لگام معیشت کا نشانہ بن گئے۔ وہ ہر حال میں اپنے دو دوستوں امبانی اور اڈانی کو فائدہ پہنچانے کی چکر میں قومی امانتوں کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ بی ایس این ایل جو اچھی کارکردگی کررہا تھا اس کے کئی مواصلاتی ٹکڑے امبانی کے حوالے کردیئے گئے۔ صحافت کی آزادی تباہ و تاراج ہوگئی ،مسلمانوں پر ظلم کے ایسے نمونے پیش کئے گئے کہ جس کی مثال آزاد ہندوستان میں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
بیروزگاری آسمان کو چھونے لگی۔ مہنگائی عوام کے ہر طبقہ کو زبردست نقصان پہنچا نے لگی۔ گھریلو بجٹ پوری طرح تباہ ہوگیا ہے۔ گھریلو خواتین اپنے گھر کو چلانے کے معاملہ میں بے حد پریشان ہیں۔ خارجی پالیسی بھی سطحی حد تک گھٹ گئی ہے۔ نہرو جی نے جو ناوابستہ تحریک شروع کی تھی اس کو کچل دیا گیا اور مودی نے سفاک اور بربریت کا نشان ملک اسرائیل کا کھلم کھلا ساتھ دیتے ہوئے اپنی ملک کی عظمت کو گھٹادیا ہے۔ کوئی بھی پڑوسی ملک جس میں چھوٹے ممالک جیسے بھوٹان اور نیپال بھی شامل ہیں ‘ہندوستان سے خوش نہیں ہیں۔ نہرو کے خاندان نے آزادی کے فوری بعد ملک کو مستحکم کرنے کے لئے 196کروڑ کا عطیہ دیا تھا جبکہ اس وقت وطن عزیز کا سالانہ بجٹ 197 کروڑ ہوا کرتا تھا۔ ایسے عظیم قائد کے ساتھ مودی جیسے لیڈر کا تقابل کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ پٹرول اور گیس کی مہنگائی نے سارے ہندوستان کی معیشت کو تہس نہس کردیا ہے۔ ہر شئے مہنگی مل رہی ہے۔
ترکاریاں اور اناج بھی مہنگائی کی لپیٹ میں ہیں اور ہندوستان میں یہ دیکھا گیا ہے کہ کسی چیز کا دام بڑھ جاتا ہے تو پھر وہ گھٹتا نہیں ہے۔ ہاں ترکاریوں کے معاملہ میں ایسا کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ اسکولوں کی فیس ، ٹرانسپورٹ کے نرخ بھی غریب اور متوسط طبقات کو زبردست زک پہنچا رہے ہیں۔ مودی کا سب سے بڑا کارنامہ تاریخ میں یہی لکھا جائے گا کہ انہوں نے ہندوستان کی ہم آہنگی کو چکنا چور کردیا۔ سیاسی جماعتوں کو توڑ پھوڑ کر ان کو مٹا دینے کا کام بھی نریندر مودی ہی نے کیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ قوم پرستی کے نام پر زرپرستی کو ہوا دی جارہی ہے۔ گاؤ کشی کے معاملہ میں نام نہاد ہندو تنظیمیں بہت بڑے جوش کا مظاہرہ کرتے رہے لیکن آج جب ان سے یہ کہا جارہا ہے کہ بیف ایکسپورٹ بند کرو تو وہ ایسے آگ بگولہ ہورہے ہیں جیسے کسی نے ان کی بے عزتی کردی ہے۔ گائے کو قومی جانور قرار دینے کی مانگ جمعیۃ العلماء کے قائد مولانا مدنی نے کی ہے جبکہ یہ مطالبہ ہندو تنظیموں کی طرف سے آنا چاہئے تھا۔
اترپردیش کا چیف منسٹر یوگی مولانا مدنی پر آگ بگولہ ہوگیا ہے اور وہ یہ کہہ رہا ہے کہ ہمیں یہ مُلا سیکھائیں گے کہ کیا کرنا چاہئے۔ آپ کو یہ جان کر تعجب ہوگا کہ اترپردیش دنیا کو بیف فراہم کرنے کے معاملہ میں ہندوستان کی ریاستوں میں نمبر ون ہے۔ اس طرح کے نام نہاد ہندوقائدین ملک میں اور خاص طورپر زبردست اثر رکھنے والے سوشیل میڈیا پر غیر معمولی ہتک کا شکار ہورہے ہیں اور عام ہندو یہ پوچھ رہا ہے کہ اگر گائے اتنی مقدس ہے تو پھر آر ایس ایس سے وابستہ لوگوں کی آٹھ بڑی کمپنیاں بیف کیسے ایکسپورٹ کررہی ہیں۔ حد تو یہ ہوگئی کہ وزیراعظم نریندر مودی نے ان کمپنیوں کے ایک ایجنٹ بن کر مشرق وسطی کے ایک ملک کا دورہ کیا اور انہیں لکھت میں تیقن دیا کہ صرف حلال بیف ہی فراہم کیا جائے گا۔ دہرامعیار کبھی بھی آشکار ہوجاتا ہے۔
ہاں اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہر سچائی کو سامنے آنے کے لئے تھوڑا سا وقت لگتا ہے۔ بیروزگاری کے گراف پر اگر نظر دوڑائی جائے گی تو پتہ چلے گا کہ اتنی تباہی پچھلے 50سال میں نہیں ہوئی۔ پنڈت نہرو نے 4398 دن منتخب وزیراعظم رہنے کا ریکارڈ بنایا تھا جبکہ نریندر مودی نے اسے 4399 دن تک بلا تعطل حکومت کرکے نہرو کے ریکارڈ کو عبور کرلیا ہے۔ اس حقیقت کے باوجود یہ ایک کھلی سچائی ہے کہ نہرو کا دور تعمیری دور رہا جبکہ مودی کا دور تباہی کا دور رہا۔ مودی کی سرکار میں ملک کے ہر شعبہ میں جس میں عدلیہ بھی شامل ہے مداخلت کی گئی ہے۔ عدلیہ مبینہ طورپر وہیں گانا گاتی ہے جسے سرکار سننا چاہتی ہے۔
ایک ظالم شہنشاہ کے سامنے اپوزیشن کا کمزور ہونا ملک کے نظام کے لئے انتہائی خطرناک ہے اگر اپوزیشن متحد ہوکر ملک کی حالت کو نہیں بدلے گا تو بہت دیر ہوجائے گی۔ ان حالات کے باوجود ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئے کیونکہ
ظلم کی رات بہت لمبی سہی‘ لیکن دوستو!
ایک دن اس ظلم کے بادل چھٹ ہی جائیں گے
۰۰۰٭٭٭۰۰۰