جنوبی بھارت

این سی ای آر ٹی نصاب کے حذف شدہ حصوں کو کیرالا میں پڑھائے جانے کا امکان

کیرالا میں طلبہ کو اُن حصوں کو بھی پڑھائے جانے کے امکان ہے جو این سی ای آر ٹی نے اپنی گیارہویں اور بارہویں جماعتوں کی نصابی کتب سے حذف کردیے ہیں، جن میں مہاتما گاندھی کے قتل اور آر ایس ایس پر امتناع سے متعلق حصے بھی شامل ہیں۔

ترواننتا پورم: کیرالا میں طلبہ کو اُن حصوں کو بھی پڑھائے جانے کے امکان ہے جو این سی ای آر ٹی نے اپنی گیارہویں اور بارہویں جماعتوں کی نصابی کتب سے حذف کردیے ہیں، جن میں مہاتما گاندھی کے قتل اور آر ایس ایس پر امتناع سے متعلق حصے بھی شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں
صدر جمہوریہ کے خلاف حکومت ِ کیرالا کا سپریم کورٹ میں مقدمہ
ہندو راشٹر کا تصور مہاتما گاندھی کے اُصولوں کے خلاف: نتیش کمار
ایس سی ای آر ٹی کے شعبہ اردو کا چند اساتذہ کی جانب سے غلط استعمال، نرمل میوا صدر کا الزام
راشن دکانوں پر مودی کی تصویر نہیں لگائی جائے گی
مرکز کے ظلم کے خلاف انسانی زنجیر احتجاج، لاکھوں افراد کی شرکت

واضح رہے کہ این سی ای آر ٹی نے حال ہی میں نصاب کو معقول بنانے کے نام پر اپنی بارہویں جماعت کی تاریخ کی کتاب سے مہاتما گاندھی اور ہندو مسلم اتحاد کے لیے ان کی جستجو جس کی وجہ سے ہندو انتہاپسند مشتعل ہوئے، کو حذف کردیا ہے۔

اس نے اُس حصہ کو بھی حذف کردیا جس میں مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد آر ایس ایس پر حکومت کے امتناع کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ نصابی کتب میں حقائق کو نظرانداز کرتے ہوئے نظرثانی پر ایک تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔

اسٹیٹ کونسل آف ایجوکیشن ریسرچ اینڈ ٹریننگ (ایس سی ای آر ٹی) اپنی نصابی اسٹیرنگ کمیٹی کے فیصلہ پر غور کررہی ہے تاکہ حذف شدہ حصوں کو ریاستی نصاب میں شامل کیا جاسکے۔

کمیٹی کا اجلاس منگل کے روز منعقد ہوا، جس نے جنرل ایجوکیشن منسٹر وی شیون کٹی کو یہ ذمہ داری تفویض کی کہ وہ حکومت اور چیف منسٹر پی وجین کے ساتھ مشاورت کے بعد اس معاملہ میں قطعی فیصلہ لیں۔

شیون کٹی نے اس واقعہ کی توثیق کرتے ہوئے یہاں کہا کہ ایس سی ای آر ٹی اور نصابی کمیٹی ریاست میں جنرل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے تعلیمی امور کے بارے میں فیصلہ لے گی۔

این سی ای آر ٹی کے ساتھ ایک یادداشت ِ مفاہمت کے مطابق کیرالا اُن کی 44 نصابی کتب استعمال کررہا ہے اور تاریخ، پولٹیکل سائنس، اکنامکس اور سوشیالوجی جیسے مضامین کے مواد میں ہائیر سکنڈری لیول پر قابل لحاظ تبدیلی آئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ نصابی کمیٹی نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان تمام حصوں کو جنہیں ان نصابی کتب میں حذف کردیا گیا ہے، شامل کیا جائے اور ریاست میں طلبہ کو ان کی تعلیم دی جائے۔ مجھے حکومت اور چیف منسٹر کو اس فیصلہ کے بارے میں مطلع کرنے اور اس ضمن میں ضروری فیصلہ لینے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ چیف منسٹر پی وجین کے ساتھ مشاورت کے بعد ہی قطعی فیصلہ لیا جائے گا۔

a3w
a3w