حیدرآباد

بی آر ایس، یکساں سیول کوڈ کی مخالف: کے ٹی راماؤ

کارگزار صدر بی آر ایس کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ بی آر ایس یکساں سیول کوڈ کی مخالف ہے اور اِس کو ہندوستان کے لئے خطرہ سمجھتی ہے۔

حیدر آباد: کارگزار صدر بی آر ایس کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ بی آر ایس یکساں سیول کوڈ کی مخالف ہے اور اِس کو ہندوستان کے لئے خطرہ سمجھتی ہے۔

متعلقہ خبریں
کے ٹی آر اور کے راجگوپال ریڈی میں دلچسپ نوک جھونک
کے ٹی آر بورا بنڈہ کے مسلم خاندان کے گھر پہنچ گئے، ابراہیم خاں کی دعوت قبول کرلی (ویڈیو)
یونیفام سیول کوڈ کی نہیں ملازمتوں کی ضرورت:اویسی
اگر یکساں سیول کوڈ نافذ ہوجائے تو طلاق و خلع کے لئے تڑپنا پڑے گا
حکومت کچھ خطرناک قوانین لارہی ہے: جائیدادوں کی بذریعہ زبانی ہبہ تقسیم کردیجئے

یکساں سیول کوڈ نہ صرف مسلمان بلکہ تمام ہندوستانیوں پر ضرب ہوگا اور یہ ہمارے لئے قطعی قبول نہیں ہے۔ آج تلنگانہ بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم سیکولرازم کو سیاسی ہتھیار نہیں سمجھتے بلکہ ہمارے مزاج میں سیکولرازم شامل ہے۔

کے سی آر نے زندگی میں کبھی بھی بی جے پی کا ساتھ نہیں دیا اور نہ کبھی دینے کا تصور کرسکتے ہیں۔ کے ٹی راما راؤ نے کانگریس پر ریاست میں منفی پروپگنڈہ کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ کانگریس کہہ رہی ہے کہ 9 سال میں بی آر ایس کے دور میں 9 مساجد کی شہادت ہوئی ہے، جو سراسر غلط ہے۔

کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ جہاں تک عنبرپیٹ میں مسجد یکخانہ اور عاشور خانہ کی شہادت کی بات ہے، اِن عبادت گاہوں کے سامنے ایک مسلم شخص نے ملگی بناکر کرایہ پر دیا تھا اور جب توسیع کی بات آئی تو جی ایچ ایم سی نے اُس شخص کو ڈھائی کروڑ روپے معاوضہ دیا گیا۔

کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ سکریٹریٹ میں مسجد ہاشمی اور مسجد معتمدی اُس وقت منہدم ہوگئے جب سکریٹریٹ کی پرانی عمارت کو منہدم کیا جارہا تھا، مگر حکومت نے دو شاندار مساجد تعمیر کئے۔ کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ شمس آباد میں ہائی کورٹ کے احکامات پر عمل آوری کے لئے کمشنر بلدیہ صابر علی مسجد خواجہ محمود کو گرانے گئے تھے، مگر اطلاع ملتے ہی محمود علی و دیگر قائدین وہاں پہنچ گئے اور مسجد کو بچالیا گیا۔

اِس مسجد کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ایک شخص نے عدالت میں عرضی داخل کی تھی۔ مگر بی آر ایس حکومت نے مسجد کو بچالیا۔ کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ قطب شاہی مسجد شامیر پیٹ کو لینڈ گرابرس نے گرایا تھا، مگر پولیس اور مقامی عوام کی مدد سے مسجد کو بچالیا گیا۔ کوتہ گڈم جنگلات کے علاقہ میں مسجد کو منہدم کرنے کا واقعہ سامنے آیا تھا، مگر حکومت نے آج اُسی مقام پر مسجد تعمیر کروایا۔

جلال گوڈا بالا پور میں کوئی مسجد شہید نہیں کی گئی۔ اِسی طرح قطب شاہی مسجد حیات بخش بیگم بھی جوں کی توں اصلی حالت میں موجود ہے۔ میں اقلیتی برادری سے اپیل کروں گا کہ آپ کانگریس اور بی جے پی کے منفی پروپگنڈہ کا شکار نہ بنیں۔

بی جے پی کی جانب سے مسلمانوں کو دیئے جارہے 4 فیصد تحفظات کو ختم کرنے کے اعلان کو ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ مسلمانوں کے غریب طبقات کو اِن کی معاشی صورتحال کو دیکھتے ہوئے تحفظات فراہم کئے جارہے ہیں۔

بی آر ایس کو اقلیت نواز جماعت قرار دیتے ہوئے کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ 9 سالوں کے دوران ہم نے اقلیتوں کے لئے بہت کچھ کیا۔ ہم مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھتے رہیں گے۔ میری عوام سے خواہش ہے کہ ہماری کارکردگی کا جائزہ لیں اور بی آر ایس کی حمایت برقرار رکھیں۔