سیاستمضامین

تیسری عالمی جنگ ‘ تنگدسی میں ناممکندہشت گردتنظیم داعش و آئی ایس آئی ایس اسرائیل کی پیداکردہ

سلیم مقصود

یوروپ نے امریکہ کے بہکاوے میں آکر یوکرین جنگ کے نقصانات کا جائزہ لئے بغیر نہ صرف اپنے پاؤں اس میں ڈال دیئے بلکہ اپنے ہاتھوں کو بھی اس میں پھنسالیا ۔ روس کے تیل پر پابندی کے وقت اس نے یہ نہیں سوچا کہ اسے ساری دنیا میں سب سے زیادہ سستا تیل اور گیاس روس ہی سے ملا کرتی ہے ۔ روس نے امریکہ اور یوروپ کے ناقابل برداشت اقدام کے جواب میں خود کوئی ایسا اقدام نہیں کیا۔ امریکہ اور یوروپ نے خود ہی روس کی درآمدات اور برآمدات کا راستہ بند کردیا۔ اس سے بعض ممالک نے یہ فائدہ اٹھایا کہ انہوں نے روس سے سستا تیل اور سستا اناج درآمد کرکے انہیں تیل سے محروم یوروپی ممالک کی مارکٹ میں زیادہ قیمت پر فروخت کرنا شروع کردیا۔ مغربی ممالک کو دوسرا نقصان یہ ہوا کہ اسرائیل۔ حماس اور یوکرین جنگ میں ان کے کود پڑنے سے ان کے غیر ضروری مصارف ان کی آمدنی سے بھی بڑھنے لگے۔ ان دونوں جنگوں سے نہ تو روس کو کوئی شدید نقصان ہوسکا اور نہ ہی مغربی ممالک کو کوئی فائدہ حاصل ہوسکا۔ بلکہ امریکہ اور یوروپ دونوں کی معیشت پر یہ دونوں جنگیں برا اثر ڈالنے لگیں۔ امریکہ کے ذمہ بھی 5 ٹریلین ڈالر کے قرض کی ادائیگی کا بوجھ پڑگیا۔ صنعتی پیداوار دیگر کاروباری اشیاء جن میں موٹر کاریں ‘ اسلحہ جات‘ صحت عامہ کے شعبوں کے آلات ادویات اور مشنریوں کی مانگ کے کم ہونے سے ان کی پیداوار بھی گھٹنے لگی۔ سیاحتی اور تعلیمی شعبوں کی آمدنی بھی گھٹ گئی۔
اسرائیل نے ’’ دو ممالک‘‘ کے قیام کی سعودی عرب کی اقوام متحدہ کی منظورہ تجویز کو کبھی قبول کیا اور نہ ہی اس پر عمل کیا۔ یہ تو صرف عربوں کے اسرائیلی بائیکاٹ سے اسے پہنچنے والے کئی بلین ڈالر کے نقصان سے بچانا تھا۔ دو ملکوں میں فلسطین کی زمین کی اور پانی کی تقسیم پر عمل کرنے کے بجائے اس نے فلسطینیوں کی زمین کو قابض پناہ گزینوں کے حوالے کرنا شروع کردیا۔ فلسطین کے مرحوم قائد اور دانشمند سعید کے بیان کے مطابق فلسطین کی سرزمین 80 فیصد تک گھٹ گئی اور آبی وسائل پر فلسطینیوں کا صرف6 فیصد حصہ باقی رہ گیا۔
حماس اسرائیل جنگ میں فلسطینیوں کی شکست اور اسرائیل کی کامیابی سے اگر غازہ کی بقیہ زمین بھی مل جائے تو اسرائیل مقامی لوگوں اور کثیر تعداد میں اسرائیلی کامیابی سے خوش صیہونی پناہ گزینوں کی آمد سے اسرائیل کو ناقابل برداشت مسائل سہنے پڑیں گے۔
اس سے امریکہ پر بھی اثر ہوگا اور جی20- کے تحت جو نئی شاہراہوں کی تعمیر کا منصوبہ تیار کیا جارہا ہے اس پر بھی عمل درآمد ناممکن ہوجائے گا کیوں کہ چین نے اس جنگ سے فائدہ اٹھا کر بغیربحری شاہراہوں کی ضرورت کو استعمال کئے بنا اپنی متعدد اقسام کی اشیاء کو افریقہ اور ایشیاء میں سستے داموں کے ساتھ عام کرنا شروع کردیا ہے ۔ اب مغربی ‘ امریکی اور ہندوستانی چیزوں کی آمدورفت اور مارکٹ کا غلبہ ختم ہونے لگ جائے گا۔
اسرائیل کے خفیہ اور خطرناک ادارے ’’ موساد‘‘ کا اب ساری دنیا میں مذاق اڑایا جارہاہے۔ ہمارے ملک کے خفیہ اداروں اور دنیا کے دیگر ممالک پر اس کا خوف اور اس سے اپنی خفیہ تنظیموں کو تربیت دلوانے کی کوئی ضرورت نہیں پڑے گی۔
ہندوستان کے دس لاکھ مزدوروں کو اسرائیلی خدمات پر روانہ کرنے کا خواب بھی شاید پورا نہ ہو۔اسرائیلی کمپنیوں کی صنعتی اشیاء ‘ خواتین کی زیبائش اور میک اپ کے سامان ‘ سافٹ ویر اور کھانے پینے کی چیزوں کے بائیکاٹ کے سبب اسرائیلی کمپنیاں ان چیزوں کو تیار کرسکیں گی اور نہ ہی انہیں لیبر کی ضرورت رہے گی۔ اگر غلام عرب ممالک امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ نہ دیں تو خصوصاً اسرائیل تباہ و برباد ہوجائے گا۔ اس کے لئے عرب ممالک کی عوام کو خود اپنے غیر قانونی حاکموں کی ان بداعمالیوں کے خلاف بغاوت کرنی ہوگی۔ عرب اور خلیجی ممالک کے خود غرض حکمران باہمی رقابتوں کے باعث ان خطرناک حالات میں بھی وہ اسرائیل کے ساتھ اپنی قرابت برقراررکھیں گے کیوں کہ اسرائیل ان کی باہمی لڑائیوں اور سازشوں میں ان کے لئے اہم کردار ادا کرتا ہے۔
غازہ پٹی پر اپنے قبضے کے بعد اسرائیل نئی عمارتوں‘ دواخانوں‘ اسکولوں کی تعمیر آسانی کے ساتھ نہیں کرسکے گا۔ حماس کی تعمیر کردہ سینکڑوں سرنگوں کا کہا جاتا ہے کہ فاصلہ500 کلو میٹر تک ہے اور یہ سرنگیں اسرائیل کے ہر علاقے اور اسرائیل کے ہر پڑوسی ملک تک پائی جاتی ہیں۔ ایسی صورت میں اسرائیل کو نئی تعمیرات سے قبل ہر سرنگ کی شناخت کرنا اور اسے منہدم کرنا پڑے گا۔ ان سرنگوں کے تعمیری نقشے کے بغیر انہیں ڈھادینا آسان اور ممکن کام نہیں۔
ایران پر امریکہ اور اس کے حواریوں کے فضائی حملے نے ایران کے جاسوسوں کے ذریعہ اس کے لئے عراق اور شام میں پائے جانے والے ’’ موساد‘‘ کی شاخوں کے خوفناک اور پوشیدہ اڈوں کے راز فراہم کردیئے۔ ایران نے کئی سو کلو میٹر کا فاصلہ طئے کرکے انہیں غارت کرڈالا۔ یمن کے حوثیوں نے بھی امریکہ اور پانچ حواریوں کی جانب سے یمن میں ان کے ٹھکانوں پر اچانک حملوں کا بدلہ لینے کے لئے امریکہ اور اسرائیل ان کے سارے بحیرہ عرب کے مشرق وسطیٰ کے علاقوں کی جاسوسی کرنے والے ایجنٹوں کا پتہ چلالیا اوران کو اور ان کے ٹھکانوں کو برباد کردیا۔ یمن کے تباہ کن حملوں سے اس راز کا پردہ فاش ہوگیا کہ اس علاقہ کے ممالک کو امریکہ اور اسرائیل ان بعض مقاصد کو پورا کرنے کا وعدہ کرکے کس طرح استعمال کیا کرتے تھے۔ سعودی عرب کی عراق اور شام کے ساتھ دشمنی نے اسرائیل کو یہ موقع فراہم کیا تھا کہ اس نے خود امریکہ کے ساتھ مل کر ایران‘ لبنان‘ یمن ‘ عراق‘ شام اور قطر میں داعش اور آئی ایس آئی ایس شیطانی اڈے قائم کررکھے تھے اس علاقے کے ہر ملک پر نظر رکھی جاتی تھی اور ان کے دہشت گردوں کی خوفناک تربیت بھی دی جاتی تھی۔ افغانستان اور پاکستان میں دہشت گردانہ حملے کرکے دونوں برادر ملکوں میں غلط فہمیاں پیدا کی جاتی تھیں۔ ان حملوں کا یہ بھیانک مقصد تھا کہ اس خطہ کے پڑوسی ملکوں کو لڑا کر اپنا اسلحہ انہیں مہنگی قیمتوں پر فروخت کیا جائے اور ان کی کمزوریوں کا پتہ معلوم کرکے ان کا غلط استعمال کیا جائے۔ ان کے نقش قدم پر چل کر ہمارے ملک نے بھی بعض غیر دانشمندانہ حرکات کی ہیں جس سے کینڈا ‘ امریکہ ‘ برطانیہ ‘ سری لنکا ‘ مالدیپ ‘ بھوٹان ‘ بنگلہ دیش اور نیپال سے اس کے تعلقات بگڑچکے ہیں۔
مالدیپ پر ہندوستانی سیاحوں کے سفر کو مودی جی نے ممنوع قراردے دیا ہے۔ مودی جی نے مالدیپ کو معاشی زک پہنچانے کے لئے ہندوستانی سیاح کو لکشدیپ کا سفر کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔ اس سے یوکرین جنگ سے متاثر ممالک میں شامل ہمارے ملک کے تاجروں کو تقریباً14ہزار کروڑ کا نقصان ہورہا ہے۔ مالدیپ کی سیاحت پر پابندی لگانے کی بے سوچی سمجھی اسکیم سے مالدیپ میں بیرونی سیاحوں کو اپنی تجارتی اشیاء فروخت کرنے والے ہندوستانیوں کو بھی ہر روز کی آمدنی سے محروم ہوجانا پڑا ہے۔ مالدیپ کی حکومت نے وہاں مختلف خدمات انجام دینے والے 75 ہزار ہندوستانی سپاہیوں کو ملک خالی کردینے کی ہدایت دے دی ہے۔ اتنے چھوٹے سے ملک کی جانب سے اس قدر سخت ہدایت جاری کرنے کے بعد ساری دنیا میں ہندوستان کے ’’وشواگرو‘‘ ہونے کا مودی جی کا دعویٰ مضحکہ خیز بن چکا ہے۔ ان کے اس غلط سلط فیصلے سے روس اور چین کو بہت فائدہ حاصل ہورہا ہے۔ ہندوستان نے مالدیپ پر جو کثیر رقم لٹائی تھی اور اس کی خوشگواری کے لئے100 معاہدے کئے تھے ۔ اب یہ معاہدے چین کا حصہ بن چکے ہیں۔ مودی جی نے ایسی بچانے حرکات کے بجائے کبھی ہندوستانی قرض کے ہمالیہ کی چوٹی کی بلندی اختیار کرلینے پر بھی نظر ڈالی ہے۔
ان تمام باتوں سے ہٹ کر اس عالمی تنگ حالی کے تیزی سے بڑھنے پر بھی کسی نے غور کیا ہے؟ تیسری عالمی جنگ کے چھڑجانے کا دعویٰ کرنے والوں کو کیا ساری دنیا کے معاشی اور پیداواری زوال کا علم بھی ہے؟ عالمی سطح پر تجارتی‘ صنعتی ‘ تکنیکی اور طبی تحقیقاتی سرگرمیاں ٹھپ ہوچکی ہیں ایسا لگتا ہے کہ دنیا2008ء کی کساد بازاری کے سیلاب میں بہہ رہی ہے ۔ عام انسانوں اور دنیا کے بڑے بڑے دولت مندوں کے لئے یہ حالات بہت ہی تشویشناک ہیں۔ سونے ‘ چاندی ‘ ہیروں اور شاندار عمارتوں کے بجائے اب ضروری اشیاء کے ذخیروں کی ضرورت ہے۔ نقدی کا ذخیرہ دنیا کے بینکوں سے بھی غیب ہورہا ہے۔ بے چارے عام آدمی کی بات اور اوقات ہی کیا ہے۔ اسرائیل کا اب تک 5 بلین ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔ سعودی عرب اور خلیج کے ملکوں کی فحش ناک سرگرمیوں سے پتہ چلتا ہے کہ ان کا پٹرول زیادہ مقدار میں بک نہیں رہا ہے‘ اس لئے سعودی عرب کے آوارہ اور بدکار شہزادے نے اعلان کیا ہے کہ اس کے ملک کے پٹرول کے دام37 ماہ تک آدھے کردیئے جائیں گے اسے خبر ہی نہیں کہ37 ماہ بعد کیا ہوگا؟ ہندوستان ‘ چین کی اشیاء کے بحری راستوں کے بجائے خشکی کے راستوں سے پہنچ جانے پر چین سے خوش نظر آتا ہے ۔ امریکہ موجودہ غیر انسانی خطرناک مقاصد پر مبنی جنگوں کے سبب5ٹریلین ڈالر کا مقروض ہے۔

a3w
a3w