تلنگانہ

ملک کے پہلے وزیر اعظم نے تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کی: کے سی آر

وزیر اعظم مودی کی جانب سے ملک کی تقسیم، کشمیر تنازعہ اور دیگر مسائل کیلئے نہرو کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سیاسی فائدہ اٹھانے کی بھر پور کوشش کی گئی اور آج بھی مودی، کانگریس قیادت پر تنقید کرنے کا کوئی بھی موقع اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دئے ہیں۔

حیدرآباد: بی جے پی کی طرح، بی آر ایس نے بھی ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو پر تنقیدیں شروع کردی ہیں۔

متعلقہ خبریں
متھن ریڈی کو ای ڈی کی نوٹس، شراب اسکام معاملہ میں پوچھ تاچھ
فون ٹیپنگ کا معاملہ بی سی ریزرویشن سے توجہ ہٹانے کا ڈرامہ : کویتا
معروف تپ دق (ٹی بی) کے ماہر ڈاکٹر اڈیپو راجیشم کو “دی بیسٹ ٹی بی آفیسر،” ایوارڈ
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔

وزیر اعظم مودی کی جانب سے ملک کی تقسیم، کشمیر تنازعہ اور دیگر مسائل کیلئے نہرو کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سیاسی فائدہ اٹھانے کی بھر پور کوشش کی گئی اور آج بھی مودی، کانگریس قیادت پر تنقید کرنے کا کوئی بھی موقع اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دئے ہیں۔

اب صدر بی آر ایس کے چندر شیکھر راؤ نے بھی مودی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نہرو اور گاندھی خاندان کے قائدین کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔ حالیہ انتخابی جلسوں سے خطاب کے دوران کے سی آر نے کانگریس کو مخالف دلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر نہرو کے دور میں دلتوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا گیا ہوتا تو آج دلتوں کی صورتحال ایسی نہ ہوتی۔

انہوں نے ناگر جنا ساگر ڈیم کے متعلق بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آندھرائی عوام کو زیادہ فائدہ پہنچانے کیلئے پروجیکٹ کو اصل مقام سے آگے کرتے ہوئے نہرو پر تلنگانہ کے عوام کے ساتھ ناانصافی کرنے کا الزام عائد کیا۔

کے سی آر نے کہا کہ 1956 میں نہرو پر جسٹس فضل علی کمیشن رپورٹ کی سفارشات کو نظر انداز کرتے ہوئے ریاست حیدرآباد کو آندھرا میں ضم کردینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ کانگریس کی اس حرکت نے ہمارے امنگوں کا خون کردیا۔

انتخابات کے دوران بی آ رایس کا نہرو اور گاندھی خاندان پر تنقید سیاسی طور پر کتنا فائدہ مند ثابت ہوگا اس پر عوام کی توجہ مرکوز ہے۔