دہلی

کجریوال کو ای ڈی کا 5 واں سمن جاری

دہلی اکسائز پالیسی کیس سے مربوط قانون انسداد کالا دھن سے متعلق پوچھ تاچھ کے لیے انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ (ای ڈی) نے چیف منسٹر دہلی اروندکجریوال کو تازہ پانچواں سمن جاری کیا۔

نئی دہلی: دہلی اکسائز پالیسی کیس سے مربوط قانون انسداد کالا دھن سے متعلق پوچھ تاچھ کے لیے انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ (ای ڈی) نے چیف منسٹر دہلی اروندکجریوال کو تازہ پانچواں سمن جاری کیا۔

متعلقہ خبریں
ملک میں روس جیسی آمرانہ صورتحال: کجریوال
ای ڈی کی نئی چارج شیٹ بی آر ایس ایم ایل سی ملزم
ہیمنت سورین کی درخواست ضمانت‘ ای ڈی سے جواب طلب
منیش سسوڈیہ کی درخواست عبوری ضمانت پر ایجنسیوں کو نوٹس
کجریوال نے گرفتاری سے چند ہفتے قبل انسولین لینا بند کردیاتھا

کجریوال جو عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر بھی ہیں نے قبل ازیں 18 جنوری‘ 3‘ جنوری‘ 2دسمبر اور 21 دسمبر 2023 میں جاری کردہ سمن کو نظرانداز کردیاتھا۔ انہوں نے ان سمنوں کو غیر قانونی بھی قرار دیا تھا۔

سمجھاجاتا ہے کہ تازہ سمن 2 فروری کو حاضر ہونے جاری کیاگیا ہے۔ الزام عائد کیاگیا کہ حکومت دہلی کی اکسائز پالیسی برائے 2021-22 میں شراب کے تاجروں کو شراب کی حمل و نقل کی اجازت دینے میں مدد کی گئی اور چند ڈیلروں سے جانبداری برتی گئی جنہوں نے مبینہ طور پر رشوت دیا تھا۔

الزام کی عام آدمی پارٹی کی جانب سے بار بار تردید کی گئی۔ بعدازاں مذکورہ پالیسی منسوخ کردی گئی اور لفٹننٹ گورنر وی کے سکسینہ سی بی آئی تحقیقات کا حکم جاری کیاتھا۔ اس کے نتیجہ میں ای ڈی نے قانون انسداد کالا دھن کے تحت کیس درج کیا ۔

دریں اثنا انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی جانب سے چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال کو تازہ سمنس جاری کئے گئے ہیں جس کے بعد عام آدمی پارٹی کی جانب سے نوٹس کا جائزہ لینے کے لیے قانونی ٹیم کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔

پارٹی کی جانب سے مقرر کردہ قانونی ٹیم قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے دہلی آبکاری پالیسی اور منی لانڈرنگ کیس کے سلسلہ میں چیف منسٹر دہلی کو پانچویں مرتبہ سمن جاری کیا ہے۔

سرکاری ذرائع نے یہ بات بتائی اور کہا کہ منی لانڈرنگ اور آبکاری پالیسی مربوط کیس کے سلسلہ میں تحقیقات کرنے والی ایجنسی چیف منسٹر اروند کجریوال سے پوچھ گچھ کرے گی۔

کجریوال جو کہ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر بھی ہیں قبل ازیں 2 نومبر اور 21 دسمبر 2023 کو جاری کردہ سمنس کی تعمیل کرتے ہوئے اجلاس میں حاضر نہیں ہوئے۔ بتایا جاتاہے کہ 3 اور 18 جنوری کو بھی انہیں نوٹس دی گئی تھی۔

اس کے باوجود وہ تحقیقات کرنے والے عہدیداروں کے اجلاس پر حاضر نہیں ہوئے ۔ انہوں نے اس طرح کی نوٹسوں کو غیرقانونی قرار دیا ہے بتایا جاتاہے کہ اب انہیں 2فروری کو طلب کیاگیا ہے۔