آندھراپردیش

13 سالہ لڑکی نے ندی کے پل کے ایک پائپ سے لٹکتے ہوئے ڈائیل 100 پر فون کیا اور اپنی جان بچالی

ایک 13 سالہ لڑکی نے ندی کے پل کے ایک پائپ سے لٹکتے ہوئے ڈائیل 100 پر فون کیا اور اپنی جان بچائی۔

حیدرآباد: ایک 13 سالہ لڑکی نے ندی کے پل کے ایک پائپ سے لٹکتے ہوئے ڈائیل 100 پر فون کیا اور اپنی جان بچائی۔

متعلقہ خبریں
نتائج کے اعلان کے بعد 15 دنوں تک مرکزی فورس کی 25 کمپنیاں برقرار رکھنے کی ہدایت
آج سے 4دنوں تک بارش کا امکان
اے پی کے چیف سکریٹری اور ڈی جی پی دہلی طلب
ٹی ڈی پی کے مغویہ پولنگ ایجنٹس کو پولیس نے رہا کرالیا
66لاکھ استفادہ کنندگان میں وظائف کی تقسیم کا آغاز

کمسن لڑکی کی دلیری کا یہ واقعہ آندھراپردیش کے کوناسیما ضلع کے راولاپلم گوتمی گاوں کے پل پر پیش آیا جہاں ایک شخص نے اس کمسن لڑکی کے علاوہ اس کی ماں اور نومولود بہن کو پل کے اوپر سے پانی میں پھینک دیا تھا جس میں اس کی ماں اور نومولود بہن پانی میں بہہ گئیں۔

تاہم یہ کمسن پل کے نیچے ایک پائپ کے سہارے سے پانی میں بہہ جانے سے بچ گئی اور اس نے دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے پاس موجود سیل فون کی مدد سے پولیس کی مدد لی۔

تفصیلات کے پشپالا سوہاسینی (35) نام کی ایک خاتون شوہر سے علیحدگی کے بعد اسی گاوں کے رہنے والے سریش کے ساتھ گنٹور ضلع کے تاڑی پلی میں رہتی تھی۔

اس کی دو بیٹیاں ایک سالہ جرسی اور 13سال کی لکشمی کیرتنا بھی ان کے ساتھ رہتے تھے۔ سریش، جو انہیں کوناسیما ضلع کے پرانے پل پر لے گیا، تینوں کو پانی میں دھکیل دیا۔

اس واقعہ میں خاتون اور اس کی ایک سالہ بیٹی پانی میں بہہ گئے جبکہ لکشمی کیرتنا پل کی دیوار کے نیچے پائپ پکڑ کر بچ گئی۔ اپنی جان بچانے اس نے اپنے سیل فون سے 100 ڈائل کیا۔

ایس آئی وینکٹارامنا فوری نیشنل ہائی وے کے عملے کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے اور اس کو بچایا۔