دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز سعودی عرب میں لینڈ کر گئی
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب نیتن یاہو نے اسی روز خبردار کیا تھا کہ اسرائیل کے دشمن ملک میں انتخابات سے قبل حملے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
تل ابیب : دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی ایک پرواز نے دورانِ پرواز ہنگامی صورتحال کا اعلان کرنے کے بعد بدھ کو سعودی عرب کے تبوک ہوائی اڈے پر لینڈنگ کی۔ اطلاعات کے مطابق طیارہ ہائی جیک کیے جانے کا اندیشہ مسترد کر دیا گیا ہے۔
اسرائیلی سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے ٹائمز آف اسرائیل نے بتایا کہ واقعہ بظاہر طیارے کے پائلٹوں کے درمیان جھگڑے کے باعث پیش آیا۔
اخبار کے مطابق فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوا کہ طیارے نے ابتدا میں بین الاقوامی ہنگامی کوڈ ”7700” منتقل کیا، جس کے بعد اسے ”7500” میں تبدیل کر دیا گیا، جو ہائی جیکنگ یا کسی اور غیر قانونی مداخلت کی نشاندہی کرتا ہے۔
اسرائیلی سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ”7500” سگنل موصول ہونے کے بعد اسرائیلی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے پرواز کی جانب پیش قدمی کی۔
تقریباً 180 مسافروں کو لے جانے والے طیارے نے سعودی عرب کی فضائی حدود میں پرواز کے دوران اپنا رخ تبدیل کیا اور بعد میں تبوک کے قریب اس کی موجودگی کا سراغ ملا، جہاں وہ ہوائی اڈے پر اتر گیا۔
اسرائیلی سکیورٹی حکام نے کہا کہ جس سگنل کے باعث ہنگامی کارروائی کی گئی، وہ طیارے کے پائلٹوں کے درمیان جھگڑے سے متعلق تھا، نہ کہ ہائی جیکنگ سے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فوج نے بتایا کہ آئی ڈی ایف کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر نے واقعے کے حوالے سے اعلیٰ افسران کے ساتھ جائزہ اجلاس کیا۔ اجلاس میں اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ میجر جنرل اومر ٹشلر، آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ میجر جنرل ایتزک کوہن اور انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ میجر جنرل شلومی بائنڈر بھی شریک تھے۔
اس سے قبل اسرائیلی سکیورٹی ذرائع نے کہا تھا کہ طیارے کے بحفاظت سعودی عرب میں اترنے کے بعد ہی حکام کو جہاز کے اندر پیش آنے والے واقعے کی زیادہ واضح تصویر مل سکے گی۔
ہنگامی سگنل بھیجے جانے کے بعد طیارہ کچھ دیر کے لیے فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹس سے بھی غائب ہوگیا تھا۔ عبرانی زبان کے میڈیا نے یہ بھی اطلاع دی کہ صورتحال کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ہنگامی مشاورت کی۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب نیتن یاہو نے اسی روز خبردار کیا تھا کہ اسرائیل کے دشمن ملک میں انتخابات سے قبل حملے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
اسرائیلی فضائیہ کے تل نوف اڈے پر خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کو اپنے فوجیوں کی کوششوں سے حاصل ہونے والی کامیابیوں سے دستبردار ہونے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا، ”بے پناہ کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، لیکن بے پناہ دباؤ بھی ہے-دستبردار ہونے اور اپنے فوجیوں کی بہادری سے حاصل کی گئی عظیم کامیابیوں کو ترک کرنے کا دباؤ۔ میں ایسا ہونے نہیں دے رہا اور نہ ہی ہونے دوں گا۔”
نیتن یاہو نے مزید خبردار کیا کہ اسرائیل کو ایسے اشارے ملے ہیں کہ اس کے دشمن انتخابات سے قبل ملک پر حملہ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ”ہمارے پاس اشارے ہیں کہ انتخابات سے قبل ہمارے دشمن ہم پر حملہ کرنے کی کوشش کریں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کا ”لمبا ہاتھ” اپنے مخالفین تک ”کہیں بھی، کسی بھی وقت” پہنچے گا۔