دہلی

دہلی میں نافذ ہوگا انٹیلی جنٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم

دہلی میں تقریباً 71 لاکھ سرگرم رجسٹرڈ گاڑیاں ہیں اور گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ سڑک کے ڈھانچے کی توسیع کے مقابلے میں کافی زیادہ رہا ہے

نئی دہلی :    مرکزی حکومت نے دہلی میں انٹیلی جنٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم (آئی ٹی ایم ایس) نافذ کرنے کو منظوری دے دی ہے جس میں 1,789.52 کروڑ روپے کی لاگت کا تخمینہ ہے۔

مرکزی اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی ویشنو نے بدھ کے روز بتایا کہ وزیرِ اعظم نرنریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ کی اقتصادی امور کی کمیٹی نے دہلی میں انٹیلی جنٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم (آئی ٹی ایم ایس) نافذ کرنے کو منظوری دے دی ہے۔ دہلی پولیس کے ذریعہ نافذ کیے جانے والے اس پروجیکٹ کے لیے 1,789.52 کروڑ روپے کی تخمینہ شدہ لاگت منظور کی گئی ہے۔ پروجیکٹ کے تحت دہلی کی 42 اہم ٹریفک راہداریوں کو تین مراحل میں شامل کیا جائے گا اور اسے 24 مہینوں میں نافذ کرنے کا ہدف ہے۔ اس کے بعد پانچ سال تک اس کا آپریشن اور دیکھ بھال کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کا مقصد دہلی میں موجودہ سڑک نیٹ ورک کا زیادہ موثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے ٹریفک مینجمنٹ کو ریئل ٹائم (بروقت) اعداد و شمار کی بنیاد پر چلانا ہے۔ دہلی میں تقریباً 71 لاکھ سرگرم رجسٹرڈ گاڑیاں ہیں اور گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ سڑک کے ڈھانچے کی توسیع کے مقابلے میں کافی زیادہ رہا ہے۔ آئی ٹی ایم ایس کے تحت اے آئی پر مبنی معقول ٹریفک سگنل، خودکار نافذ العمل نظام، ریئل ٹائم میں ٹریفک کی نگرانی اور مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم قائم کیا جائے گا۔ اس سے سڑک پر موجود ٹریفک کی صورتِ حال کے مطابق سگنل کے وقت میں تبدیلی کی جا سکے گی اور اہم کوریڈورز پر سگنلوں میں ہم آہنگی قائم کی جائے گی۔

پروجیکٹ سے ایمبولینس اور دیگر ہنگامی گاڑیوں کو ترجیحی بنیادوں پر راستہ فراہم کرنے کا نظام بھی بنایا جائے گا۔ اس کے تحت گرین کوریڈور کی سہولت تیار ہوگی، جس سے بھیڑ والے راستوں سے ہنگامی گاڑیوں کی آمد و رفت تیز ہو سکے گی۔ حادثے، جام یا سست ٹریفک کی ریئل ٹائم میں شناخت کر کے دہلی پولیس کو فوری کارروائی اور ضرورت کے مطابق ٹریفک ڈائیورٹ کرنے میں مدد ملے گی۔ مسافروں کو ویری ایبل میسج سائن بورڈ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے ذریعے جام، ڈائیورژن، پارکنگ کی دستیابی اور ٹریفک کی صورتِ حال کی معلومات دی جائے گی۔ یہ معلومات نیویگیشن سروس فراہم کرنے والوں کے ساتھ بھی شیئر کی جا سکے گی۔

آئی ٹی ایم ایس کے تحت ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی اور کارروائی کو بھی مضبوط کیا جائے گا۔ یہ نظام ریڈ لائٹ اور اسٹاپ لائن کی خلاف ورزی، تیز رفتار، غلط سمت میں گاڑی چلانا، ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کا استعمال نہ کرنا، غیر قانونی پارکنگ اور ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کا استعمال جیسے معاملات کا خودکار طور پر پتہ لگانے میں اہل ہوگا۔ اے آئی پر مبنی تجزیے سے چوری یا ہاٹ لسٹڈ گاڑیوں، بار بار قانون توڑنے والی گاڑیوں نیز ہٹ اینڈ رن سے جڑی گاڑیوں کی شناخت میں بھی مدد ملے گی۔ پروجیکٹ کے تحت 1,092 اڈاپٹو ٹریفک کنٹرول سسٹم اور 1,029 انفورسمنٹ مقامات کو کور کیا جائے گا۔