’السلام علیکم‘ یا ’سلام علیکم‘؟ صحیح طریقہ کیا ہے؟
سلام کرتے ہوئے ’ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ‘ کہنا بہتر ہے ، ارشاد نبوی کے مطابق اس میں تیس نیکیاں ملیں گی ، (سنن ابی داؤد ،باب کیف السلام ،حدیث نمبر:۵۱۹۵ ) صرف السلام علیکم کہا جائے تب بھی سلام کی سنت ادا ہوجائے گی ؛ لیکن ثواب کم ملے گا ۔
سوال:- سلام کا جواب دینے میں بعض لوگ ’وعلیکم السلام ‘ کہتے ہیں اور بعض ’ علیکم السلام ‘ اسی طرح بعض ملکوں میں سلام کرنا ہو تو ’ سلامٌ علیکم ‘ کہا جاتا ہے ، بعض حضرات جواب میں ’ مغفرتہ ‘ کا اضافہ کردیتے ہیں ، اس سلسلہ میں صحیح طریقہ کیا ہے ؟ ( محمد قمر الزماں، ملے پلی)
جواب :- (الف) سلام کرتے ہوئے ’ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ‘ کہنا بہتر ہے ، ارشاد نبوی کے مطابق اس میں تیس نیکیاں ملیں گی ، (سنن ابی داؤد ،باب کیف السلام ،حدیث نمبر:۵۱۹۵ ) صرف السلام علیکم کہا جائے تب بھی سلام کی سنت ادا ہوجائے گی ؛ لیکن ثواب کم ملے گا ۔
( ب ) اگر سلام میں صرف ’ سلامٌ علیکم ‘ کہا جائے تو یہ بھی جائز ہے ۔
( ج ) جواب میں ’ وعلیکم السلام ‘ کہنا بہتر ہے ؛ لیکن اگر واؤ کے بغیر ’ علیکم السلام ‘ کہہ دے ، تب بھی جواب ہوگیا ، ہر دو صورت میں جواب دیتے ہوئے ’ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ‘ کہنا بہتر اور زیادہ اجر کا باعث ہے ۔
( د) ’برکاتہ ‘ کے بعد کسی لفظ کا اضافہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے ؛ اس لئے اسی پر اکتفا کرنا چاہئے : والأفضل للمسلم أن یقول : السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ والمجیب کذلک یرد ، ولا ینبغی أن یزاد علی البرکات شیٔ ویأتی بواو العطف فی وعلیکم ، وإن حذفھا أجزأہ وإن قال المبتدیٔ : سلام علیکم أو السلام علیکم ، فللمجیب أن یقول فی الصورتین ، سلام علیکم أو السلام علیکم ولکن الأکف واللام أولی (ردالمحتار ، کتاب الحظر والاباحۃ : ۶؍۴۱۴ ) نیز اس سلسلے میں حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ کا قول بھی موجود ہے کہ ہر چیز کی ایک انتہا ہوتی ہے اور سلام کی انتہا ’ وبرکاتہ ‘ ہے : ’’ لکل شیٔ منتھی ، ومنتھی السلام البرکات ۔ (المحیط البرہانی ، کتاب الاستحسان والکراہیۃ : ۵؍۳۲۶)