دو منزلہ مکان والے بھی غریبوں کی قطار میں! سرکاری اسکیموں کا غلط فائدہ
بے گھر لوگوں کو مکان دیا جاتا ہے لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن لوگوں کا اپنا خود کا کاروبار ہے یا اچھی خاصی نوکری ہے۔ وہ بھی پنشن یا وظیفہ کے لئے درخواستیں دیتے ہیں۔ کچھ لوگ پنشن لے بھی رہے ہیں۔ اسی طرح سے کچھ لوگوں کے اپنے ذاتی مکان ہیں۔ کچھ لوگوں کےتو پختہ دو دو منزلہ مکان ہیں۔
سوال : میرا نام خلیل زماں خان ہے اور میں سلیمان نگر کا ساکن ہوں۔ میرا سوال یہ ہے کہ کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ حکومت کی طرف سے غریب لوگوں کو جو اسکیمات کے ذریعہ فوائد پہنچائے جاتے ہیں۔ اس سے ہر کوئی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ جیسا کہ ایسے ضعیف لوگوں کو پنشن دی جاتی ہے جن کے پاس آمدنی کا کوئی بھی ذریعہ نہیں ہوتا۔
اسی طرح بے گھر لوگوں کو مکان دیا جاتا ہے لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن لوگوں کا اپنا خود کا کاروبار ہے یا اچھی خاصی نوکری ہے۔ وہ بھی پنشن یا وظیفہ کے لئے درخواستیں دیتے ہیں۔ کچھ لوگ پنشن لے بھی رہے ہیں۔ اسی طرح سے کچھ لوگوں کے اپنے ذاتی مکان ہیں۔ کچھ لوگوں کےتو پختہ دو دو منزلہ مکان ہیں۔
وہ بھی اپنے آپ کو بے گھروں کی صف میں شامل کر کے مکانات لے لئے ہیں یا لے رہے ہیں اور ان کا یہ کہنا ہے کہ جب حکومت دے رہی ہے تو ہمیں لینے میں کیا حرج ہے ۔میرا آپ سے سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح سے ہم کسی حقدار کا حق تو نہیں مار رہے ہیں۔؟ کیا یہ جائز ہے۔؟ کیا بعد میں انکوائری یا تحقیقات ہو تو ایسے افراد کے خلاف کوئی قانونی کاروائی ہوگی۔؟
جواب : جی، آپ کا کہنا بالکل درست ہے۔ حکومت کی جانب سے مختلف اسکیمات غریب اور مستحق افراد کو فائدہ پہنچانے کے لئے متعارف کی جاتی ہیں۔ جیسا کہ بیواؤں کو وظیفہ دیا جاتا ہے۔ مستحق، غریب اورضرورت مندوں کو پنشن دی جاتی ہے۔ معذورین کو مالی امداد یا وظیفہ فراہم کیا جاتا ہے۔ غریب اور مستحق افراد کی ضروریات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس طرح کی فلاحی اسکیمات کا آغاز کیا جاتا ہے لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ جو افراد مستحق ہیں۔
وہی ان اسکیمات سے فائدہ کے حصول کے لئے درخواستیں دیں۔ مستحق اور غریب افراد کو ہی فلاحی اسکیمات سے استفادہ کرنا چاہئے۔ اگر کسی کے پاس گھر نہیں ہے تو ان کو حکومت کی جانب سے گھر کی فراہمی کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس سلسلہ میں اندرما انڈلو کے نام سے حکومت نے ابھی ایک نئی اسکیم کا آغاز کیا ہے۔اس اسکیم کے تحت بےگھر افراد کو ہی گھر کے حصول کے لئے درخواست دینی چاہئے۔اگر کوئی غیر مستحق فلاحی اسکیمات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔
غلط طریقہ سے کوئی بھی اسکیم سے مستفید ہونے کی کوشش کرتا ہے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ بحیثیت ذمہ دار شہری ہم اپنا رول ادا کریں اور انتظامیہ تک اس غیر مستحق فرد کی تفصیلات پہنچائیں تاکہ کسی بھی مستحق کا حق سلب نہ ہو۔ اس سلسلہ میں ہم غیر مستحق فرد کی شکایت کر سکتے ہیں کہ وہ مستحق نہ ہونے کے باوجود فلاحی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایسا کرنے سے ہوتا یہ ہے کہ اگر کوئی غلط طریقہ سے حکومت کی کوئی بھی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے تو اسے روکا جا سکتا ہے اور دوسری طرف جو مستحق ہے۔ اس تک اس اسکیم کے فوائد کو پہنچائے جا سکتے ہیں۔ اس طرح ایک حقدار کے حق کا تحفظ کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نہ صرف چوکسی اختیار کریں بلکہ ایک ذمہ دار شہری کا بھی کردار ادا کریں۔ ہم کو ایک ذمہ دار شہری کے طور پر یہ سوچنا بھی چاہئے کہ جو مستحق ہے۔
وہی فلاحی اسکیمات سے فائدہ اٹھائے اور جو مستحق نہیں ہے وہ اس بات کی کوشش کرے کہ مستحقین تک فلاحی اسکیمات کے ثمرات پہنچے۔ جہاں تک غیر مستحقین کی جانب سے فلاحی اسکیمات سے فائدہ اٹھانے کا سوال ہے۔ اس سلسلہ میں اگر انتظامیہ سے شکایت کی جاتی ہے تو کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔