قومی

اے آئی ایم آئی ایم نے مغربی بنگال میں ہمایوں کبیر سے اتحاد توڑ لیا

یہ قدم ہمایوں کبیر سے جڑے تنازعات اور ان پر لگے الزامات کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم کا کہنا ہے کہ ان تنازعات نے ریاست میں مسلمانوں کی یکجہتی اور نمائندگی کے حوالے سے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ پارٹی نے واضح کیا ہے کہ اب وہ مغربی بنگال میں آزادانہ طور پر انتخابات میں حصہ لے گی۔

کولکاتہ: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے قبل ایک اہم سیاسی پیش رفت میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے جمعہ کے روز عام جنتا انین پارٹی کے سربراہ ہمایوں کبیر کے ساتھ اپنا اتحاد ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

متعلقہ خبریں
مسلمان اگر عزت کی زندگی چاہتے ہو تو پی ڈی ایم اتحاد کا ساتھ دیں: اویسی
وزیراعظم صاحب آپ کے بھی چھ بھائی ہیں ۔ اویسی کی مودی پر تنقید
ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر ترمیم: بنگال میں 90 لاکھ سے زیادہ نام حذف،مرشد آباد سرفہرست
اردو جرنلسٹس فیڈریشن کا ایوارڈ فنکشن، علیم الدین کو فوٹو گرافی میں نمایاں خدمات پر اعزاز
اویسی کا دوٹوک بیان: پاکستان دہشت گردی کی آڑ میں انسانیت کا دشمن


یہ قدم ہمایوں کبیر سے جڑے تنازعات اور ان پر لگے الزامات کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم کا کہنا ہے کہ ان تنازعات نے ریاست میں مسلمانوں کی یکجہتی اور نمائندگی کے حوالے سے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ پارٹی نے واضح کیا ہے کہ اب وہ مغربی بنگال میں آزادانہ طور پر انتخابات میں حصہ لے گی۔


سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں پارٹی نے کہا کہ کبیر سے متعلق حالیہ واقعات نے بنگال کے مسلم معاشرے کی حساسیت کو اجاگر کیا ہے اور پارٹی کسی ایسے بیان یا عمل سے خود کو وابستہ نہیں رکھ سکتی جو مسلمانوں کی وفاداری پر سوال اٹھائے۔


اے آئی ایم آئی ایم نے مزید کہا کہ دہائیوں کے سیکولر حکمرانی کے باوجود بنگال کے مسلمان آج بھی سب سے غریب، نظرانداز اور مظلوم طبقات میں شامل ہیں۔

پارٹی نے زور دیا کہ اس کا سیاسی مقصد حاشیے پر رہنے والے طبقات کو ایک خودمختار آواز فراہم کرنا ہے۔ ساتھ ہی پارٹی نے یہ بھی اعلان کیا کہ آئندہ مغربی بنگال میں وہ کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں کرے گی۔