دہلی

تین ملکوں کے دفاعی معاہدوں پر بھارت کی گہری نظر، وزارتِ خارجہ کا بیان

اگر کسی ایک رکن ملک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

نئی دہلی  :   ہندوستان نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے "مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” اور پاکستان و صومالیہ کے درمیان حالیہ دفاعی تعاون کے معاہدے سے متعلق پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ساتھ ہی ہندوستان نے افریقی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اگلا ہندوستان-افریقہ سربراہ اجلاس دونوں فریقوں کے لیے موزوں تاریخ پر منعقد ہوگا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز میڈیا بریفنگ میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے سے متعلق سوال پر کہا کہ "ہم اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔”

واضح رہے کہ ان تینوں ممالک نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت اگر کسی ایک رکن ملک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے دفاعی معاہدے پر ہندوستان کی گہری نظر: وزارت خارجہ

پاکستان اور صومالیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ "جس دوسرے ملک (پاکستان) کا آپ نے ذکر کیا ہے، اس کے ساتھ صومالیہ میں ہونے والی پیش رفت پر بھی ہم مسلسل گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔”

چند روز قبل صومالیہ اور پاکستان نے اسلام آباد میں دہشت گردی کے خلاف تعاون، فوجی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ اور وسیع تر سلامتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے مفاہمت نامے پر دستخط کیے تھے۔

ہندوستان-افریقہ سربراہ اجلاس کے بارے میں ترجمان نے کہا کہ افریقی یونین سے مشاورت کے بعد اسے ملتوی کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ افریقہ کے ممالک کے ساتھ ہندوستان کے تاریخی اور مضبوط تعلقات ہیں اور ترقیاتی تعاون بدستور جاری ہے، جو گلوبل ساؤتھ اور جنوب-جنوب تعاون کا اہم حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں فریق مناسب تاریخ طے کرنے کے لیے باہمی رابطے میں ہیں تاکہ آئندہ ہندوستان-افریقہ سربراہ اجلاس منعقد کیا جا سکے۔