قانونی مشاورتی کالمقومی

غیر قانونی تعمیرات والوں پر خطرے کی گھنٹی! جی ایچ ایم سی کا بڑا ایکشن

گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں بغیر پرمیشن کے عمارتوں کی تعمیر ایک عام بات ہے۔ ایسے کئی غیر قانونی تعمیرات ابھی بھی جاری ہیں۔ تعمیرات کے لئے کسی قسم کی کوئی پرمیشن نہیں لی جاتی۔ علاوہ ازیں کچھ پرانی تعمیرات بھی ہوتی ہیں۔ جس پر اضافی منزلوں یا ایڈیشنل فلورس کی تعمیر عمل میں آتی ہے۔

سوال : کیا گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی جانب سے اس وقت کوئی بلڈنگ ریگولرائزیشن کی اسکیم چل رہی ہے۔ کوئی بھی غیر قانونی تعمیرات ہیں تو اس کو لیگل یا باقاعدہ بنانے کے لئے کیا طریقہ کار ہے۔

جواب: گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں بغیر پرمیشن کے عمارتوں کی تعمیر ایک عام بات ہے۔ ایسے کئی غیر قانونی تعمیرات ابھی بھی جاری ہیں۔ تعمیرات کے لئے کسی قسم کی کوئی پرمیشن نہیں لی جاتی۔ علاوہ ازیں کچھ پرانی تعمیرات بھی ہوتی ہیں۔ جس پر اضافی منزلوں یا ایڈیشنل فلورس کی تعمیر عمل میں آتی ہے۔

اس کے لئے بھی کوئی پرمیشن نہیں لیا جاتا۔ غیر قانونی تعمیرات سے متعلق جب گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو شکایتیں موصول ہوتی ہیں تو پھر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کارروائی کی کوشش کرتا ہے۔ عام معاملات میں پڑوسیوں کی جانب سے اور چند متعلقہ افراد کی جانب سے اگر کوئی غیر قانونی تعمیرات کی شکایت موصول ہوتی ہے تو پھر یہ معاملات باضابطہ طور پر عدالتوں تک پہنچتے ہیں۔

عدالتوں میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے لئے درخواستیں داخل کی جاتی ہیں اور جب گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن غیر قانونی تعمیرات کیخلاف کوئی کارروائی کرنا چاہتا ہے تو پھر متاثرہ افراد ہائی کورٹ سے یا دوسری عدالتوں سے رجوع ہوتے ہیں اور حکم التوا حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اسی طرح ایک پبلک انڈس لیٹیگیشن بل ہوتا ہے۔ ایک بل بھی ہماری ریاست میں تلنگانہ ہائی کورٹ کو پہنچا تھا۔ جس میں بتایا گیا تھا کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ درخواستیں بلڈنگ ریگولرائزیشن کیلئے زیر التوا ہیں اور جب کبھی بھی کوئی بھی ریگولرائزیشن کے لئے درخواست دی جاتی ہے تو اس کے اوپر کارپوریشن کی طرف سے فوری کارروائی نہیں ہوتی ہے۔ جہاں تک گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن ایکٹ کی بات ہے ۔

اس قانون کے تحت سیکشن 455 اے اور سیکشن 455ڈبل اے دو ایسے سیکشنس ہیں‘ جس میں کمشنر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو ریگولرائزیشن کے اختیارات دیئے گئے ہیں۔ سیکشن 455 اے ایک ایسا سیکشن ہے جس کے تحت بغیر کسی پرمیشن کے اگر کوئی اسٹرکچر تعمیر کیا جاتا ہے تو ایسے عمارتوں یا گھروں کو ریگولرائز کرنے کے لئے یہ سیکشن گنجائش فراہم کرتا ہے اور سیکشن 455ڈبل اے ایسا سیکشن ہے جس میں عمارت کی تعمیر کے لئے پرمیشن تو لی گئی ہے لیکن پرمیشن کی خلاف ورزی کی گئی ہے جیسا کہ دو فلور کی اجازت حاصل کی گئی لیکن چار فلور تعمیر کئے گئے۔

اس طرح سے اگر بلڈنگ پرمیشن میں کسی بھی طرح سے قواعد کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو کمشنر کو اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ وہ سیکشن 455 ڈبل اے کے تحت ایسی تعمیرات کو ریگولرائز کرے۔ حالیہ دنوں میں تلنگانہ ہائی کورٹ کے جسٹس وجئے سین ریڈی کی جانب سے بھی اس خصوص میں ایک آرڈر پاس کیا گیا اور اسی طرح کے آرڈرس دیگر عدالتوں سے بھی پاس کئےجا رہے ہیں۔ جسٹس وجئے سین ریڈی نے غیر قانونی تعمیرات سے متعلق آرڈر کی کئی وجوہات بتائی ہیں۔

ریگولرائزیشن کے لئے کئی درخواستیں پینڈنگ ہیں تاہم جی ایچ ایم سی کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ ایسے کئی لوگ ہیں جو ضرورت کے لئے اضافی تعمیرات کرتے ہیں۔ بعض اوقات فیملی بڑھ جاتی ہے تب اضافی فلورس کی ضرورت ہوتی ہے یا پھر کوئی واستو کے لحاظ سے بلڈنگ پرمیشن میں تبدیلی کرنا چاہتے ہیں تو ایسے حالات میں باضابطہ سیکشن 455 اے اور سیکشن 455 ڈبل اے کے ذریعہ اجازت کی گنجائش فراہم کی جاتی ہے۔

تاہم ان معاملات میں جب جی ایچ ایم سی کی جانب سے موثر کارروائی نہیں کی جاتی ہے تو درخواست گزار عدالت سے رجوع ہوتے ہیں۔ اس معاملہ میں ہائی کورٹ یہ کہہ رہا ہے کہ اپلیکیشنز کے اوپر جب تک کارروائی نہیں ہوتی تب تک اسٹیٹس کو مینٹین کیا جائے۔ اس طرح سے ریگولرائزیشن کے لئے جو بھی درخواستیں دی جا رہی ہیں۔

ان درخواستوں پر فی الفور کارروائی کرتے ہوئے ایسے بلڈنگس کو ریگولرائز کیا جائے۔ ایسے عمارتیں جو غیر قانونی تعمیر کی جا رہی ہیں یا پھر اجازت کے حصول کے بعد قواعد کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے تب ایسی درخواستوں پر فوری کارروائی کی جائے۔ اس طرح سے جو بہت بڑا مسئلہ شہر میں مقیم افراد کا پرمیشن کے تعلق سے تھا اور عوام اس تعلق سے جو پریشان رہتے ہیں۔ ان کو چاہئے کہ وہ سیکشن 455 اے اور سیکشن 455ڈبل اے کے تحت قانونی مدد حاصل کریں۔