قانونی مشاورتی کالمقومی

پلاٹ خریدنے کی ایک بڑی غلطی، برسوں بعد پچھتاوا!

اگر آپ نوٹری پر کوئی جائیداد یا پلاٹ خریدتے ہیں تو اس کے تحت آپ کو کوئی مالکانہ حقوق حاصل نہیں ہوتے ہیں۔ نوٹری کے تحت جائیداد کی خریداری ایک قانونی عمل نہیں ہے۔ جائیداد خریدنے کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ محکمہ رجسٹریشن سے باضابطہ رجسٹری کروائی جائے۔

سوال: ہم سال 2019 میں ایک پلاٹ خریدے تھے۔ یہ پلاٹ نوٹری پر حاصل کئے۔ ایل آر ایس نہیں ہے۔ یہ بات معلوم نہیں تھی۔ اب ایل آر ایس نہ ہونے کی وجہ سے رجسٹری نہیں ہو رہی ہے۔ ایل آر ایس کرانے کے لئے کیا کرنا چاہئے۔؟

جواب: اگر آپ نوٹری پر کوئی جائیداد یا پلاٹ خریدتے ہیں تو اس کے تحت آپ کو کوئی مالکانہ حقوق حاصل نہیں ہوتے ہیں۔ نوٹری کے تحت جائیداد کی خریداری ایک قانونی عمل نہیں ہے۔ جائیداد خریدنے کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ محکمہ رجسٹریشن سے باضابطہ رجسٹری کروائی جائے۔

آپ جہاں کہیں بھی پلاٹ یا جائیداد خریدتے ہیں تو آپ کو چاہئے کہ متعلقہ سب رجسٹرار آفس سے رجوع ہوں اور رجسٹریشن کروائیں۔ تب ہی آپ کو مالکانہ حقوق حاصل ہوں گے۔ آپ نے سوال کیا ہے کہ نوٹری پر جائیداد خریدے ہیں۔ سب سے پہلے تو نوٹری کے تحت جائیداد کے جو دستاویزات ہوتے ہیں۔ یہ دستاویزات کسی بھی قانونی عمل کے لئے قبول نہیں کئے جاتے ہیں۔

ساتھ ہی آپ نے ایل آر ایس کے بارے میں بھی پوچھا ہے۔ ایل آر ایس جو کہ لینڈ ریگولرائزیشن اسکیم ہے۔ یہ اسکیم ابھی ریاست تلنگانہ میں نافذ العمل نہیں ہے۔ سال 2024 اور سال 2025 کے دوران اس اسکیم کو نافذ کیا گیا تھا۔ اس خصوص میں باضابطہ ریگولرائزیشن کے لئے ایل آر ایس پورٹل بنایا گیا تاہم اب ایل آر ایس پورٹل کے تحت کسی بھی طرح کے ایل آر ایس ایپلیکیشنز یا درخواستوں کو قبول نہیں کیا جا رہا ہے۔

مارچ 2024 تک ادائیگیوں پر25 فیصد رعایت کے ساتھ اس اسکیم کو لاگو کیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں سال 2020 میں بھی ایل آر ایس اسکیم متعارف کی گئی تھی اور اس وقت جو لوگ درخواستیں داخل کئے تھے اور اپنی جائیدادوں کو باقاعدہ یا ریگولرائز بنانے کے لئے کچھ ادائیگی عمل میں لائے تھے۔ ان کو کچھ رعایت دی گئی تھی لیکن اب موجودہ حالات میں ریاست تلنگانہ میں ریگولرائزیشن کے لئے کوئی اسکیم نہیں ہے۔

تاہم وقتاً فوقتاً اسکیم کو متعارف کیا جاتا ہے تاہم پھر بھی اگر کوئی ضرورت مند ہیں تو وہ ایچ ایم ڈی اے یا محکمہ پنچایت یا محکمہ بلدیہ سے رجوع ہوتے ہوئے ریگولرائزیشن کے لئے درخواستیں داخل کر سکتے ہیں۔ مذکورہ بالا اداروں کو اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ وہ ریگولرائزیشن کی کارروائی کبھی بھی انجام دیں۔ دراصل بلڈنگ ریگولرائزیشن کا معاملہ ہو یا لینڈ ریگولرائزیشن کا معاملہ ہو۔

یہ عوام کی ایک ضرورت ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ معلومات کی کمی یا عدم معلومات کی وجہ سے بغیر کوئی لے آؤٹ کے بھی جائیدادیں خریدلی جاتی ہیں۔ ایسے حالات میں اگر کوئی جائیداد کا لے آؤٹ نہیں ہوتا ہے تو پھر مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ سب سے پہلا مسئلہ پرمیشن یا اجازت کے حصول کا درپیش ہوتا ہے۔

پھر رجسٹریشن کے لئے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور لے آؤٹ نہ ہونے پر کوئی بھی بینک یا مالیاتی ادارہ لون دینے کے لئے آگے نہیں آتا ہے۔ لہٰذا ہم کو چاہئے کہ جب بھی ہم کوئی جائیداد یا پلاٹ خریدیں تو دیکھیں کہ باضابطہ بلڈنگ کا پرمیشن ہے یا نہیں۔ لے آؤٹ منظورہ ہے یا نہیں۔ منظورہ لے آؤٹ دیکھ کر ہی جائیداد یا پلاٹ کو خریدیں کیونکہ بغیر ایل آر ایس اور بغیر لے آؤٹ کے اگر آپ کوئی جائیداد خریدتے ہیں تو پھر آپ کو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔