مادھا پور کے لکی ریسٹورنٹ پر قبضے کی کوشش، انمولہ ترپتی ریڈی پر سنگین الزامات
الزامات کے مطابق ترپتی ریڈی نے بعض ایسی جائیدادوں اور ہوٹلوں میں دلچسپی ظاہر کی جنہیں وہ حاصل کرنا چاہتے تھے اور مبینہ طور پر مالکان پر انہیں حوالے کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ مزید الزام ہے کہ ہوٹل مالکان پر دباؤ ڈالنے کے لیے فوڈ سیفٹی محکمہ کے نوٹس اور معائنوں کا سہارا لیا گیا۔
حیدرآباد: تلنگانہ کے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے بھائی انمولہ ترپتی ریڈی پر مادھا پور میں واقع لکی ریسٹورنٹ کو مبینہ طور پر اپنے قبضے میں لینے کی کوشش اور فوڈ سیفٹی محکمہ کی کارروائی کو مبینہ طور پر استعمال کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
الزامات کے مطابق ترپتی ریڈی نے بعض ایسی جائیدادوں اور ہوٹلوں میں دلچسپی ظاہر کی جنہیں وہ حاصل کرنا چاہتے تھے اور مبینہ طور پر مالکان پر انہیں حوالے کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ مزید الزام ہے کہ ہوٹل مالکان پر دباؤ ڈالنے کے لیے فوڈ سیفٹی محکمہ کے نوٹس اور معائنوں کا سہارا لیا گیا۔
مادھا پور کے لکی ریسٹورنٹ سے متعلق دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریسٹورنٹ کے مالک کی جانب سے اسے حوالے کرنے سے مبینہ طور پر انکار کیے جانے کے بعد فوڈ سیفٹی حکام نے وہاں دھاوا کیا اور بعد ازاں ریسٹورنٹ کو سیل کردیا۔
الزامات میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کے بعد ترپتی ریڈی کی جانب سے مبینہ طور پر ریسٹورنٹ اپنے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا، تاہم مالک نے اس پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔ اس کے بعد مبینہ طور پر جے سی بی مشینوں کے ذریعے ریسٹورنٹ کے اگلے حصے کو نقصان پہنچایا گیا۔
ریسٹورنٹ مالکان نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کئی برسوں سے مذکورہ ہوٹل چلا رہے ہیں اور اس طرح مبینہ طور پر زبردستی قبضہ کرنے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔
ان الزامات کے بعد سرکاری محکموں کے مبینہ استعمال اور نجی کاروباری اداروں کے خلاف کارروائی کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
تاہم، ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ ترپتی ریڈی اور متعلقہ حکام کی جانب سے ان الزامات پر کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔ فوڈ سیفٹی محکمہ اور دیگر متعلقہ حکام کے جواب کا انتظار ہے۔